حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 132
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - ہے۔اوّل تصدیق بالقلب، دوم تصدیق باللسان اور سوم تصدیق بالجوارح۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تینوں طور پر تصدیق فرمائی مثلا کہا کہ: 132 ” خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔بڑا اور پہلا حکم یہی ہے اور دوسرا اس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ انہی دو حکموں پر تمام تورات اور انبیاء کے صحیفوں کا دارومدار ہے۔“ ( متی باب ۲۲ آیت ۷۳ استثنا باب ۵ آیت ۴-۵) محبت اور نفرت دل کا فعل ہے اور اس کا حکم جو دیا گیا ہے اسے شریعت موسویہ کی جان قراردیا گیا ہے حضرت مسیح علیہ السلام یہ حکم دوسروں کو بھی دیتے تھے اور خود بھی اس پر عمل کرتے تھے اور تصدیق بالجوارح اسطرح کہ انجیل سے بکثرت یہ علم ہوتا ہے کہ آپ دعا اور ذکر الہی میں اپنا وقت گزارتے تھے اور موسوی شریعت کے سارے حکموں پر عمل کرنے کی بہت تاکید فرماتے تھے لکھا ہے: نیز لکھا ہے: 66 اگر تم ان باتوں کو جانتے ہو تو مبارک ہو بشر طیکہ ان پر عمل بھی کرو۔“ ( یوحنا باب ۱۳ آیت ۱۷) اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے۔“ (متنی باب ۱۹ آیت ۲۱) وہ نوکر جس نے اپنے مالک کی مرضی جان لی اور تیاری نہ کی نہ اس کی پھر لکھا ہے: مرضی کے موافق عمل کیا بہت مار کھائے گا۔“ (لوقا باب ۱۲ آیت ۴۷)