حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 131 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 131

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 131 اس کا جو تو رات میں ہے اور اپنے سے بعد آنے والے احمد کی بشارت دینے والا ہوں۔قرآن کریم کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو الکتاب یعنی تو رات اس غرض کیلئے دی گئی تھی تا آپ بنی اسرائیل سے اس پر عمل کروائیں۔دراصل لمبازمانہ گزر جانے کی وجہ سے قوموں میں شریعت کے الفاظ تو رہ جاتے ہیں پھر اسمیں بیان کردہ احکامات کی حکمت مفقود ہو جاتی ہے۔یہی وہ حکمت تھی جو آپ بنی اسرائیل کو سکھانے پر مامور کئے گئے تھے۔وَأَوْصَنِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكَوةِ مَادُمْتُ حَيَّاه (سورة مريم: آیت ۳۲) سے پتہ لگتا ہے کہ آپ شریعت کے مکلف تھے اور دوسروں کو بھی شریعت کے احکامات پر چلنے کی تلقین فرماتے تھے۔کیونکہ نبی اپنے زمانہ کیلئے ایک نمونہ ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اس کے نقش قدم پر چلنا ہوتا ہے۔آپ جب خدا کی عبادت اور انفاق فی سبیل اللہ کے حکموں پر عمل کرنے کے مکلف تھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے تھے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کے متبعین ایسا کرنے سے آزاد ہوں اور کسی امر کی نبی کو تاکید در اصل اس کے متبعین کو تاکید ہوتی ہے۔کیونکہ نبی تو پہلے ہی خدا تعالیٰ کے منشاء اور حکم کے مطابق زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔وَاذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتب (سورة المائده: آیت ١ ١ ١) کا مطلب یہی ہے کہ آپ کو شریعت کا علم اس کی حکمت تک رسائی دی گئی تھی اور یہی حکمت احکام آپ اپنے ماننے والوں کو سکھاتے تھے۔پھر فرمایا: وَمُصَدِ قَالِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ (سورة آل عمران آیت ۵۱) یعنی تو رات کے احکامات اور پیشگوئیوں کی تصدیق کرتے تھے اور تصدیق تین طور پر ہوتی