حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 13
حج کرتے ہوئے دیکھا۔صلیبی واقعہ عمداً اس کتاب میں پیش نہیں کیا گیا۔کیونکہ اس پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔تاہم باب ہشتم میں اس پر ضمنا کچھ روشنی ڈالی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موضوع پر اپنی کتاب "مسیح ہندوستان میں پہلی بار لکھا ہے اور بعدہ کئی تائیدی کتب منصہ شہود پر آگئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے حالات زندگی کے متعلق فرماتے ہیں : ظاہر ہے کہ اگر ابن مریم کے واقعات کو فضول اور بے ہودہ تعریفوں سے الگ کر لیا جائے تو انجیلوں سے اس کے واقعی حالات کا یہی خلاصہ نکلتا ہے کہ وہ ایک عاجز اور ضعیف اور ناقص بندہ یعنی جیسے کے بندے ہوا کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔اور اس بزرگ اور عظیم الشان رسول کا ایک تابع تھا اور خود اس بزرگی کو ہرگز نہیں پہنچا تھا یعنی اس کی تعلیم ایک اعلی تعلیم کی فرع تھی مستقل تعلیم نہ تھی اور وہ خود انجیلوں میں اقرار کرتا ہے کہ میں نہ نیک ہوں نہ عالم الغیب ہوں نہ قادر ہوں بلکہ ایک بندہ عاجز ہوں“۔( براہین احمدیہ ایڈیشن اوّل صفحه ۴۱۹ حاشیہ اامطبوع الشركة الاسلامیه، ربوہ، پاکستان) قرآن کریم کا انبیاء سابقین پر یہ احسان ہے کہ انکی شخصیات پر جو دھول بوجہ مرورزمانہ پڑگئی تھی اسے جھاڑ کر انکی شخصیات کو نکھار کر دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے۔آخر میں خاکسار محترم منیر الدین صاحب شمس ایڈیشنل وکیل التصنیف لندن کا انتہائی شکر گزار ہے جنہوں نے نہایت محبت سے اس کتاب کے مسودے کو ملاحظہ فرمایا اور پیش لفظ تحریر فرمایا۔اسی طرح خاکسار مکرم مجید احمد صاحب شاہد سیالکوٹی کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہے جنہوں نے پروف ریڈنگ کے سلسلہ میں میری مدد فرمائی۔میں مکرم عزیزم کا شف ورک صاحب طالب علم