حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 113
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 113 تاریخوں میں دوسرے نصف کرہ ارض یعنی امریکہ والی طرف دکھایا گیا۔اور جسطرح ایلیا علیہ السلام کی آمد بشکل یحییٰ علیہ السلام ہوئی تھی اسی طرح مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی شکل میں پوری ہو گئی ہے۔جس کے کان سنے کیلئے ہوں سن لے اور قبول کرلے۔پس حضرت مسیح علیہ السلام جہاں مسیح تھے وہاں نبی بھی تھے۔مندرجہ ذیل جگہوں سے آپ کا دعویٰ نبوت ثابت ہوتا ہے مثلا فر مایا: جو مجھے قبول کرتا ہے اسے جس نے مجھے بھیجا ہے قبول کرتا ہے جو کوئی نبی کے نام سے قبول کرتا ہے وہ نبی کا اجر پائے گا۔(متی باب ۱۰ آیات ۴۰ تا ۴۱) پھر جب آپ یروشلم میں داخل ہوئے تو سارے شہر میں غل مچ گیا۔لوگ پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے۔تب بھیڑ نے کہا کہ بی کلیل ناصرہ کا یسوع نبی ہے۔“ ( متی باب ۲۱ آیات ۱۰ تا ۱۱) اس پر بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں اُس سے کہا اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اُس نے جواب دیکر اُن سے کہا اس زمانہ کے برے اور حرامکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔دیکھو یہاں وہ ہے جو یوناہ سے بھی بڑا ہے۔دکھن کی ملکہ۔۔۔۔دنیا کے کنارے سے سلیمان کی حکمت سنے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ( متی باب ۱۲ آیات ۳۸ تا ۴۲ ) ہے۔" آپ نے اپنے آپ کو یہاں یونس نھی اور سلیمان نھی کے مشابہہ بلکہ اس سے بڑا نبی قرار دیا ہے۔نیز آپ نے فرمایا: نبی اپنے وطن اور گھر کے سوا کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔“ (متی باب ۱۳ آیت ۵۷ لوقا باب ۱۴ آیت ۲۴۔یوحنا باب ۴ آیت ۴۴)