حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 57
57 (Baptism) کی رسم ادا کرنے سے بچپن میں ہی انکار کرنا وغیرہ وغیرہ۔دلائل کا ایک بحر بے کراں ہے جن کی رو سے آپ نے حضرت بابا نانک کے بارہ میں ثابت فرمایا کہ آپ فی الواقع اسلام کے شیدائی ولی اللہ صاحب الہام بزرگ تھے۔22 ستمبر 1895ءکوسیدنا حضرت مسیح موعود نے آریوں اور عیسائیوں کو مذہبی مباحثوں کی اصلاح کے لئے نوٹس اور گورنمنٹ آف انڈیا کو ایک میموریل بھجوایا۔اس سے حضور کے طریق تبلیغ اور مخالفین کے خلاف مضبوط بنیادوں پر اتمام -8 حجت کرنے کا اندازہ ہوتا ہے۔حضور نے تحریر فرمایا اول۔کوئی فریق کسی دوسرے فریق پر ایسا اعتراض نہ کرے جو خود اس کی اپنی الہامی کتاب پر پڑتا ہو۔دوم۔ہر فریق اپنی مسلم اور مقبول کتابوں کی فہرست شائع کر دے اور کسی معترض کو یہ حق نہ ہو کہ ان کتب سے باہر کسی کتاب کے حوالہ سے اعتراض کرے۔چنانچہ حضور نے جو مسلمہ مقبولہ کتابوں کی فہرست شائع فرمائی وہ یہ ہے۔اول قرآن شریف ، دوم بخاری شریف، بشرطیکہ اس کی کوئی حدیث قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔سوم صحیح مسلم بشرطیکہ اس کی کوئی حدیث قرآن کریم اور بخاری کے مخالف نہ ہو۔چہارم۔صحیح ترمذی، ابن ماجہ، مؤطا، نسائی ، ابوداؤد، دارقطنی، بشرطیکہ اس کی کوئی حدیث قرآن کریم اور صحیحین یعنی بخاری اور مسلم کے مخالف نہ ہو۔آریوں اور عیسائیوں کو بھی آپ نے لکھا کہ آپ لوگ بھی اپنی مسلّمہ مقبولہ