حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 56
56 مجھ پر یہ مطالبہ کوئی حجت نہیں ہو سکتا۔ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے معجزے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے وہ وہی کچھ دکھا سکتا ہے جو مسیح دکھاتا تھا۔پس میں آپ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کی تلاش سے بچا لیا۔اب آپ ہی کا تحفہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ اندھے ، بہرے اور لنگڑے حاضر ہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر آپ ان کو اچھا کردیں۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اُڑ گئیں اور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں کو وہاں سے رخصت کر دیا۔-7 وو (حیات طیبہ صفحہ 127-128 ) سکھ مذہب سے متعلق حضرت مسیح موعود نے نہایت معرکۃ الآراء کتاب ست بچن، تصنیف فرمائی۔علاوہ ازیں کئی اور کتب میں بھی اس موضوع پر نہایت محققانہ ریسرچ پیش فرمائی۔یہاں صرف اس قدر لکھنا کافی ہوگا کہ جس مذہب کے بانی مبانی کے قبول اسلام کو آپ نے پہاڑوں جیسے دلائل سے ثابت کر دیا، بھلا اس مذہب کا باقی کیا بچا۔چولا حضرت بابا نانک، پوتھی صاحب، حضرت بابا نانک کے مسلمان اساتذہ ، مسلمانوں کا آپ کی نماز جنازہ ادا کرنا۔آپ کا حج بیت اللہ کرنا، مسلمان ملکوں کے سالہا سال کے سفر، مسلمانوں کے مزاروں پہ چلہ کشیاں ، بھائی بالا اور بھائی مردانہ کی جنم ساکھیاں، مسلمان عورت سے شادی کرنا، زنار پہننے