حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 33
33 ایک گھنٹہ تک برابران پر پتھر برسائے گئے۔حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا۔مگر انہوں نے اُف تک نہ کی۔ایک چیخ تک نہ ماری۔“ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 140) 1974ء میں جماعت احمدیہ پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔یہ سب ظلم وستم بھٹو صاحب کی حکومت کے ایماء پر علماء کے ساتھ ملی بھگت کے نتیجہ میں ہوئے۔پاکستان میں سینکڑوں شہروں ، قصبوں اور دیہات میں جانوں، مالوں اور عزتوں پر حملے کئے گئے۔درجنوں احمدی شہید ہوئے اور اربوں کی جائیداد میں لوٹی گئیں۔یکم جون 1974ء کو گوجرانوالہ میں مسجد احمد یہ اور مربی ہاؤس پر حملہ ہوا۔گوجرانوالہ اور اس کے نواح میں 12 احمدی شہید کئے گئے۔ان میں سے بعض کے کپڑے اتار کر اوپر کی منزلوں سے انہیں سڑکوں اور گلیوں میں گرایا گیا۔8-8 گھنٹے تک ان کی نعشیں بغیر لباس کے پڑی رہیں۔علماء اس طرح گو یا نفاذ اسلام کر رہے تھے۔اس روز جب مربی ہاؤس پر دھاوا بولا گیا اور غریب مربی کے بستر ، کپڑے، کرسیاں ، چار پائیاں شرکائے جلوس اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے۔کسی کے ہاتھ پنکھا لگا تو کسی کے ہاتھ چولہا اس موقع پر حضرت سید احمد علی شاہ صاحب کی اہلیہ محترمہ نے دونوں جوانوں سے جو سامان اٹھا اٹھا کر لیجا رہے تھے پوچھا:۔بیٹا جو لے جانا ہے لے جاؤ لیکن بتاؤ تو سہی کہ یہ سلوک ہم سے کیوں کر رہے ہو۔آخر ہمیں یہ کس گناہ کی سزادی جارہی ہے۔ایک نوجوان اماں جی آپ کا کلمہ جو اور ہے!