حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 22
22 تم مرگئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم کرتی نہیں ہے منع، صلوۃ اور صوم سے اے قوم تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے وہ ظالم سفاک ہو گئے اب تم تو خود ہی موردِ خشم خدا ہوئے اُس یار سے بشامت عصیاں جدا ہوئے اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے ایسا گماں کہ مہدی خونی بھی آئے گا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا اے غافلو یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں