حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 14
14 جہاد کے معنی انتہائی جدوجہد کے ہیں سید نا حضرت مسیح موعود قولی فعلی قلمی اور لسانی جہاد میں دن رات مصروف رہتے تھے۔11 نومبر 1902ء بروز سہ شنبہ ظہر کے وقت حضور تشریف لائے اور احباب کو فر مایا کہ یہ وقت بھی ایک قسم کے جہاد کا ہے۔میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ اس میں حصہ لے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن رات ایک کر دے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 196) ایک دفعہ قادیان میں شدید گرمی پڑی۔گلیاں سنسان ہو گئیں۔بازار بند ہو گئے۔ایسی گرمی کہ ہر شخص الامان والحفیظ پکار اٹھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے شدت گرما کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مخصوص شیریں اور دلر با انداز میں فرمایا کہ اس قدر شدید گرمی تھی کہ سب لوگ بے حال ہو گئے حتی کہ خدا کی مشین بھی بند ہوگئی مراد یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود جو کسی حال میں کسی موسم میں کام سے نہیں تھکتے آپ بھی آرام پر مجبور ہو گئے۔حضرت مسیح موعود کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو اس موسم میں بھی ایک لحظہ کے لئے کام بند نہیں کیا۔(ذکر حبیب صفحہ 161 از حضرت مفتی محمد صادق) 14 جولائی 1906ء کو ایک معزز خاندانی ہندو دیوان صاحب جو صرف ملاقات کے لئے قادیان آئے تھے۔ظہر کی نماز سے قبل انہوں نے عرض کیا کہ مجھے