حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 11
11 حضرت علی ایک کافر سے لڑے۔حضرت علی نے اس کو نیچے گرا لیا اور اس کا پیٹ چاک کرنے کو تھے کہ اس نے حضرت علی پر تھوکا۔حضرت علی یہ دیکھ کر اس کے سینہ پر سے اتر آئے۔وہ کافر حیران ہوا اور پوچھا کہ اے علی ! یہ کیا بات ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرا جنگ تیرے ساتھ خدا کے واسطے تھا۔لیکن جب تو نے میرے منہ پر تھوکا تو میرے نفس کا بھی کچھ حصہ مل گیا۔اس پر میں نے تجھے چھوڑ دیا۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 50-49) سید نا حضرت مسیح موعود اپنے معرکتہ الآراء مضمون " گورنمنٹ انگریزی اور جہاد میں ایک عجیب نکتہ معرفت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” اور میں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھا تا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پر ہیز کر یں مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے۔اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ شر سے پر ہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجالاؤ۔اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے کیا ہی گندہ اور نا پاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں۔اور کیا ہی نا پاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔سوتم جو میرے ساتھ ہو۔ایسے مت ہو۔تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے۔کیا یہی کہ ہر