حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 7
7 خیال کر لیا کہ شاید ان الفاظ میں ایک جنگ کرنے والے مصلح کی خبر دی گئی ہے۔حالانکہ یہ سب استعارے تھے جن سے نشانات اور دلائل کی جنگ مراد تھی نہ کہ تیر و کمان کی جنگ۔۔۔۔۔مرادتھی 66 (سلسلہ احمدیہ صفحہ 81-280) ایک بار سید نا حضرت مسیح موعود نے خونی مہدی کی حدیثوں کی نسبت فرمایا سلطنت کے خیال سے وضع کی گئی ہیں ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 123) اسی طرح سیدنا حضرت مسیح موعود نے رسالہ ” گورنمنٹ انگریزی اور جہاد“ میں خونی مسیح اور خونی مہدی کے تصور کے بارہ میں یہ نکتہ معرفت تحریر فرمایا ہے کہ مسلمانوں نے جہاں یہ عقیدہ اپنا لیا کہ مسیح و مہدی آکر انہیں بے شمار دولت دیں گے۔دنیا کا اقتدار انہیں مل جائے گا اور مہدی خون کی ہولی کھیلے گا۔وہاں اسلام کو رسوا کرنے کے لئے عیسائیوں نے نہایت سرگرمی کے ساتھ اس غیر اسلامی عقیدہ کو بڑے شدومد کے ساتھ ہوا دی اور اس تکرار کے ساتھ اسے دہرایا کہ مسلمان سچ مچ اسے اسلام کی حقیقی تعلیم سمجھ کے خود بھی اسی رو میں بہہ گئے اور جہاد جہاد کے نعرے لگانے لگے۔عیسائی در پردہ اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے اور شدید نقصان پہنچانے کے لئے دجل سے کام لے رہے تھے لیکن شومئی قسمت مسلمان ان کی چال میں پھنس گئے اور اس نہایت مکروہ الزام کو اپنے سر تھوپ کراہی پر فخر کرنے لگے یہ مسلمانوں کی بدنصیبی اور سادہ لوحی تھی جس نے مسلمانوں میں جہاد کے بارہ میں ایسا مکروہ اور ظالمانہ تصور