حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 6 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 6

6 رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ (ردالمختار علی الدر المختار جلد 3 ص 235) ذرا غور فرمائیے کہ ایک ایسی جنگ جس میں آپ بنفس نفیس شریک ہوں۔ایک ایسی جنگ جس میں صحابہ کرام اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے بیتاب ہوں۔ایک ایسی جنگ جس میں صحابہ کے دلوں میں شہادت کی آرزو مچل رہی ہو اس جنگ کے بارہ میں حکمت اور دانائی کے شہنشاہ کا فرمان یہ ہو کہ یہ غزوہ جس میں جان تک قربان ہوسکتی ہے۔اُس اسلامی جہاد کے مقابلہ میں جہاد اصغر ہے جو زندگی کے ایک ایک لمحہ پر حاوی ہے۔اپنے نفس کی اصلاح اور اپنی آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت ایک نہ ختم ہونے والا جہاد ہے۔یہ ایک ایسی قربانی ہے جو لمحہ لحہ ، سانس سانس عمر بھر دی جاتی ہے اور اسی لئے نفس کی اصلاح کے اس نا پیدا کنار عمل کا نام جہادا کبر رکھا گیا۔یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں کے مختلف فرقے اور جہادی علماء جس مخصوص جہاد کا پر چار کرنے لگے یہ تصور ان میں کیونکر پروان چڑھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد اس کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔” خدائی پیشگوئیوں میں بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں کلام ہوتا ہے۔مگر نا سمجھ لوگ اُسے حقیقت پر محمول کر لیتے ہیں۔چنانچہ مسیح و مہدی کے متعلق جو اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ اس کے دم سے کافرمریں گے یا یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کوقتل کرے گا اس سے کم علم لوگوں نے