حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 5
5 جہاد کا لفظ اسلامی اصطلاح میں غیر معمولی وسعت کا حامل اور معانی کا ایک جہان سمیٹے ہوئے ہے۔اس کے معنے اعلیٰ مقصد کے لئے مسلسل محنت شاقہ کرنا، مالی قربانیاں دینا۔قرآن کریم اور اسوہ نبوی کی روشنی میں صلح و آشتی اور امن کا پیغام دینا، اصلاح نفس کے لئے خواہ وہ ذاتی ہو یا آئندہ نسلوں کی ، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ کی روشنی میں ہمہ گیر، انتھک محنت اور منصوبہ بندی کرنا اور سب سے آخر پر خود حفاظتی اور ذاتی دفاع کے لئے وہی ہتھیار استعمال کرنا جود ثمن اسلام کے نابود کرنے کے لئے کرتا ہو۔جہاد کے اس وسیع مفہوم کو محض جہاد بالسیف تک محدود کر دینا ایک ظلم عظیم اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کی شدید بے حرمتی ہے۔آپ کو جہاد کا جو عرفان حاصل تھا اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ سورۃ فرقان کی آیت وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقة 2 : 53) مکہ میں نازل ہوتی ہے آپ اس واضح اور صریح حکم کے باوجود یکی زندگی کے دوران کسی کو تلوار میں بے نیام کرنے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ہمیشہ صبر، دعا، بخشش اور احسان اور ظلم کے مقابلہ میں عفو کی تلقین فرماتے رہے۔اور وہ فانی فی اللہ اپنے نالہ وفغاں اور حسن خلق سے مخالف کے دلوں کی سرزمین فتح کرتا رہا۔جس نے بالآخر آپ کو فتح مبین سے شاد کام کیا۔ہمارے سید و مولا نے ایک غزوہ سے واپسی پر فرمایا