حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 54 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 54

54 حیثیت سے کہا گیا۔سلام کہتا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس وقت ایک عجیب لہجہ اور عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ دل سننے کی تاب نہ لائے اور مولوی صاحب مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے اس وقت حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کا بھی اور ہی نقشہ تھا۔جس کو میں پورے طور سے تحریر میں نہیں بیان کرسکتا۔حاضرین و سامعین کا بھی ایک عجیب سرور سے پر حال تھا۔پھر مولوی صاحب نے کہا اولیاء علماء امت نے سلام کہلا بھیجا اور اس کے انتظار میں چل بسے۔آج اللہ تعالیٰ کا نوشتہ اور وعدہ پورا ہوا۔یہ غلام نبی اس کو کیسے چھوڑے یہ مسیح موعود ہیں اور یہی امام مہدی موعود ہیں۔یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ۔اور مسیح ابن مریم موسوی مرگئے۔مر گئے۔مر گئے۔بلا شک مر گئے۔وہ نہیں آئیں گے۔آنے والے آگئے آگئے آگئے۔بے شک وشبہ آگئے۔تم جاؤ یا میری طرح سے آپ کے مبارک قدموں میں گرو تا کہ نجات پاؤ۔اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور رسول تم سے خوش ہو۔منتظرین بیرون در کو جب یہ پیغام مولوی صاحب کا پہنچا۔کیا مولوی ملا اور کیا خاص و عام سب کی زبان سے کافر کافر کافر کا شور بلند ہوا اور گالیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور سب لوگ منتشر ہو گئے اور بُرا بھلا کہتے ہوئے ادھر اُدھر گلیوں میں بھاگ گئے جو کہتے کہ مرزا جادوگر ہے ان کی چڑھ نبی۔“ (حیات طیبہ صفحہ 89 تا 91)