حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ — Page 17
16 ہیں۔ہمارے دل آپ کی محبت سے لبریز ہیں۔ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ آپ کا احسان مند ہے۔اگر ہمارے بچوں کو بے دریغ قتل کر دیا جائے تو اس صدمے کو تو ہم برداشت کر سکتے ہیں مگر ہم ایک لحظہ کے لئے یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ہمارے محبوب آقا حضرت خیرالانام خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں برا بھلا ہے۔اے ۲۴ را گست ۱۹۷۴ ء کو یعنی قومی اسمبلی کی کارروائی کے آخری دن کا واقعہ ہے کہ ۹-۱۰ بجے شب کے قریب احمدیت سے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رح سے درخواست کی کہ اب آپ بھی کچھ فرمائیں یہ منظر نہایت درجہ رقت آمیز تھا۔حضور نے قرآن عظیم اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا کہ : "میں نے اس ایوان میں پہلے دو روزہ جماعت کا محضر نامہ پڑھا۔بعد ازاں گیارہ دن تک مجھ پر انتہائی سخت قسم کے سوالات کئے گئے۔یہ ایام شدید گرمی کے بھی تھے اور میرے لئے انتہائی مصروفیت کے بھی۔مجھے معلوم نہیں کہ دن کب چڑھا ہے اور رات کب آتی ہے۔ان تیرہ دنوں میں اگر : " حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا خطاب فرموده ، جون ۶۱۹۷۲، مث