حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ — Page 15
۱۵ بے نظیر اور لاجواب مصوری کے اس آسمانی شاہکار پر دنگ رہ جاتا ہے اور زبان ہی نہیں قلب و روح بھی پکار اُٹھتے ہیں تو دوبارہ کر دئے حتی نے وہ معثمان غنی پیدا جولائی نشہ میں جبکہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ بھی اس سلسلہ میں اسلام آباد میں قیام فرما تھے۔برادرم محمد شفیق قیصر مرحوم کی ملاقات ایم۔این۔اسے ہوسٹل میں اسمبلی کے ایک اشتراکیت زدہ ممبر سے ہوئی۔دوران ملاقات ان صاحب نے کہا کہ میں تو خُدا کے وجود کا بھی قائل نہیں تھا مگر اسمبلی میں آپ کے حضرت صاحب کو دیکھ کر اتنا ضرور کجھ گیا ہوں کہ اس کائنات میں کوئی تو ایسی ہستی موجود ہے جس نے ایسا نورانی چہرہ پیدا گیا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت خلیفة الشيخ الثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کامل شبیہ اور مثیل تھے اور تواریخ و روایات سے ثابت ہے۔آپ کی ذات گرامی اگرچہ بے شمار خوبیوں کی جامع اور لا تعداد صفات حسنات کی مرتع تھی مگر ان سب پر عشق رسول (صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ رنگ اپنی پوری شان کے ساتھ چھایا رہا۔آپ کو آنحضور سے بے پناہ شیفتگی اور عقیدت تھی۔حضور کی ادبی تکلیف کو دیکھ کہ تڑپ جاتے تھے اور آپ کی رضا جوئی کے لئے اپنی کل کائنات نثار کرنے کو ہر وقت آمادہ رہتے تھے ہے اور یہ سب کچھ محبت و فدائیت کے اس جذبہ کی بدولت تھا جو حضرت عثمان نے : طبقات ابن سعد جلد تذکره عثمان سیرت حلبیہ جلد ۲ قلب و جلدی بین احمدین جیل جلد مد