حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 8 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 8

13 12 نئی بلڈنگ بنوا کر کالج ربوہ منتقل کیا جائے۔آپ کامل اطاعت کے ساتھ فورار بوہ آ کر کالج کی قبل از خلافت خدمات کا اجمالی خاکہ عمارت بنوانے لگے اور سخت دھوپ میں کھڑے ہو کر نہایت تھوڑی رقم میں کالج کی عمارت مکمل (1965 1938) کروائی۔1954ء میں کالج لاہور سے ربوہ منتقل ہوا۔1965 ء تک آپ کالج کے پرنسپل کے طور پر کار ہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے آپ کی انتھک محنت اور دعاؤں اور حکمت عملی کے نتیجہ با قاعده زندگی وقف کرنے کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی خدمات 37 سال کے میں ربوہ جیسی بے آب و گیاہ جگہ پر کالج ملک کے چوٹی کے کالجوں کی صف میں آن کھڑا ہوا۔لمبے عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں جن کا آغاز 1938ء میں ہوا جب آپ آکسفورڈ سے اپنی تعلیم مکمل ڈور ڈور سے حتی کہ بیرونی ممالک سے بھی لوگ اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں داخل کر کے واپس قادیان پہنچے۔حضرت مصلح موعود نے کئی قسم کی خدمات آپ کے سپرد کیں جن میں کروانے لگے۔مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔حقیقت تو یہ ہے کہ آپ حضرت مصلح موعود کی وفات تک حضور کا مضبوط دست و بازو بن کر عظیم الشان خدمات دینیہ کی تو فیق پاتے رہے۔پرنسپل جامعہ احمدیہ تعلیم الاسلام کالج جماعت کی ذیلی تنظیموں اور مرکزی اداروں کے لئے خدمات تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ کو جماعت کی ذیلی تنظیموں اور مرکزی اداروں میں مسلسل خدمات کرنے کا موقع ملا۔صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اس عرصہ میں بنیادی طور پر آپ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔1938ء سے 1944 ء تک آپ جامعہ احمدیہ قادیان میں پڑھاتے رہے اور پھر پرنسپل بنا دیے گئے۔1944ء میں تعلیم الاسلام کالج کے شروع ہونے پر حضرت مصلح موعود نے آپ کی خدمات کو کالج آپ 1939 ء تا 1950ء صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور 1950ء تا 1954ء نائب کی طرف منتقل کر دیا۔آپ کالج کے بانی پرنسپل تھے۔تعلیم الاسلام کا لج 1944ء سے 1947ء صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے اور خلیفہ وقت کے تک قادیان میں تھا۔پھر برصغیر کی تقسم اور پاکستان ہجرت کے بعد لاہور منتقل ہوا جہاں آپ نے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے رہے۔وقار عمل، دستور اساسی ، لائحہ عمل ، سالانہ اجتماع، رساله خالد، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت پر آسمان کے نیچے صفوں پر ایک بوسیدہ عمارت میں کلاسیں دفتر خدام الاحمد یہ سب آپ ہی کے نمایاں کارنامے ہیں۔شروع کیں اور بہت جلد تعلیم الاسلام کالج لاہور کے بہترین کالجوں میں شمار ہونے لگا۔اس دوران آپ کو خلیفہ وقت کی ہدایت پر کئی ہنگامی کام کرنے کا موقع ملا جنہیں آپ نے اُس وقت آپ لاہور میں ہی رہائش پذیر تھے جب 1953ء کے مارشل لاء میں آپ کو اور نہایت کامیابی سے سرانجام دیا۔چنانچہ 1944ء کے جلسہ دہلی میں جہاں حضرت خلیفہ اسیح حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو ظالمانہ طور پر گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا گیا۔خلیفہ وقت الثانی نے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا تھا اور چالیس ہزار آدمیوں نے حملہ کیا تھا۔آپ کچھ رضا اور جماعت کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور چند ماہ بعد رہائی ہوئی۔کار لے کر حفاظت پر مامور تھے۔اسمبلی کے الیکشن کے دوران ہنگامی ڈیوٹی دی جب حضرت مصلح اس دوران آپ کو خلیفہ وقت کی طرف سے ارشاد ہوا کہ جماعت کے مرکز جدید ربوہ میں موعود نے الیکشن میں معاندین کے مقابلے پر چوہدری فتح محمد سیال صاحب کو کھڑا کیا تھا، بر صغیر