حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 20 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 20

37 36 24 ستمبر سے 13اکتوبر کے دوران آپ نے برطانیہ کے پانچ نئے مراکز کا افتتاح کیا تو کل کے ساتھ مسلسل دعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم بشارت لے کر لوٹے وَمَنُ 5 اکتوبر کو جلسہ سالانہ برطانیہ کو رونق بخشی۔9 اکتوبر کو بیت بشارت سپین کے سنگ بنیاد کی يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا تاریخی تقریب ہوئی۔19 اکتوبر کو لندن میں نماز عید پڑھائی اور 29 /اکتوبر 1980ءکو واپس ( ترجمہ ) اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے وہ ( اللہ ) اس کے لئے کافی ہے۔اللہ یقیناً اپنے ربوہ پہنچے۔یہ آپ کی زندگی کا آخری دورہ مغرب ثابت ہوا۔بیت بشارت پید رو آباد ( قرطبه ) مقصد کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر چھوڑا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جلد ہی سپین کی حکومت کے آئین میں اُن سے تبدیلیاں کروائیں اور مذہبی آزادی کی ضمانت دے دی گئی۔سپین کی تاریخ میں یہ انقلاب عظیم تھا۔اسلام کی نشاۃ اولی میں 711ء میں سپین طارق بن زیاد کے ذریعے فتح ہوا اور 1236 ء تک چنانچہ جب وہ وقت آگیا کہ جس کی بشارت دی گئی تھی تو دس سال کے عرصے کے اندراندر مسلمانوں کی حکومت رہی۔جہاں سپین کی مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی قرطبہ کے قریب بیت الذکر اور مشن ہاؤس بنانے کی حکومت کی طرف سے اجازت بھی مل گئی تھیں۔اسلام کی پہلی تین صدیوں میں وہاں علوم وفنون نے بہت ترقی کی۔بڑے بڑے عیسائی اور جگہ بھی مل گئی۔آپ نے اس بیت الذکر کا نام بیت بشارت رکھا۔9 اکتوبر 1980ء کے پادری پین کی مسلم عرب درس گاہوں سے آکر علوم حاصل کرتے رہے اور وہیں سے یورپ میں روزا برا تیمی دعاؤں کے ساتھ آپ نے بیت بشارت ( پید رو آباد ) قرطبہ کا اپنے دست مبارک علم و ترقی کی شمعیں روشن ہوئیں۔اس کے بعد جب مسلمانوں پر عارضی کمزوری کا زمانہ آیا تو سے سنگ بنیاد رکھا اور 10 اکتوبر 1980ء کو جمعہ کی نماز ادا کی۔ایک صحافی نے پوچھا۔کیا یہ سپین پھر عیسائیت کی آغوش میں جا گرا۔اسلام کا سپین سے نام و نشان مٹ گیا مسجد میں ویران درست ہے کہ سات سو سال بعد سپین میں یہ پہلی ( بیت الذکر ) بنائی جارہی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہو گئیں۔یہ بات درست ہے اور اگر کوئی اور ( بیت الذکر ) اس دوران بنی ہو تو آپ بتا ئیں۔“ جب ( دین حق ) کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ذریعے سپین میں ( دین حق ) کا احیاء نو ہو تو 1970ء میں حضرت خلیفہ دو دوره مغرب 1400ھ صفحہ 545) بیت الذکر کی تعمیر تو آپ کی زندگی میں ہی مکمل ہوگئی اور 10 ستمبر 1982ء کو افتتاح کا المسیح الثالث ایک روحانی فاتح بن کر سپین میں داخل ہوئے جیسا کہ امام بشیر احمد خان رفیق پروگرام بن گیا۔آپ مئی 1982ء میں اپنا اور اپنے قافلے کا ویز الگوانے اسلام آباد تشریف لے صاحب روایت کرتے ہیں ، 25 مئی 1970 ء کو آپ لندن سے میڈرڈ (سپین) کا بذریعہ ہوائی گئے۔وہاں 26 مئی کو آپ پر دل کے عارضہ کا حملہ ہو اور آپ سخت بیمار ہو گئے اور روبصحت نہ جہاز سفر کر رہے تھے۔میڈرڈ کا ہوائی اڈا نظروں کے سامنے آیا تو حضور نے پیچھے مڑ کر فر مایا مجھے تو ہو سکے۔طارق کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز میں سنائی دے رہی ہیں۔کیا تم کو بھی سنائی دے رہی ہیں۔اللہ تعلی کی اپنی مخفی حکمتیں ہیں آپ کا 9جون 1982ء کو اسلام آباد میں وصال ہوگیا اور (الفضل 5 مئی 1971ء) حضرت مرزا طاہر احمد خلیفتہ المسیح الرابع کے ہاتھوں آپ کے ہی طے شدہ پروگرام کے مطابق اس سارے دورے کے دوران آپ پر اضطراب کی کیفیت طاری رہی۔آپ پورے 10 ستمبر 1982ء کو بیت بشارت سپین کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔