حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 17 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 17

31 30 صد سالہ جوبلی منصوبہ دسمبر 1973ء میں جلسہ سالانہ ربوہ پر آپ نے اپنی خلافت کا سب سے بڑا توسیعی منصوبہ جاری کیا۔جس کا نام صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ ہے تا کہ احمدیت کے سوسال پورے ہونے پسند گندے ارادے لے کر آپ پر قاتلانہ حملہ کرنا چاہتے تھے۔آپ کے ڈرائیور رحمت مرحوم نے خاکسار کو ایک بار بتایا کہ ہم خود پریشان تھے خدام ڈیوٹیاں دے رہے تھے لیکن خدا کا کچھ کرنا ایسا ہوا کہ یکدم کالے بادل آئے اور مجھے بھی پتہ نہیں چلا کہ آپ کب کار میں آکر بیٹھ گئے اور ہم تک سلسلہ کے کاموں میں تیزی اور عالمگیر وسعت پیدا کی جائے آپ فرمایا کرتے تھے کہ معجزانہ طور پر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور انتہاء پسند عناصر جو اسلحہ چھپا کر کھڑے تھے ہمارے خدا نے ہمارے اندر ایک آگ لگا رکھی ہے کہ ہم نے (دین حق ) کو ساری دنیا میں غالب کرنا ہے۔اس منصوبہ کا مقصد ساری دنیا میں اشاعت، تصنیف اور تعمیرات کے ذریعہ جس کا تذکرہ حضور نے 13 فروری 1974ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔انتظار کرتے رہ گئے اور ہم خدا کے فضل سے بخیریت ربوہ پہنچ گئے۔جماعت کے لئے یہ بہت نازک وقت تھا آپ ساری ساری رات جاگ کر اللہ تعالیٰ سے ( دین حق ) کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچانا تھا اس منصو بہ کی مخالفت عالمی سطح پر شروع ہوئی دعائیں کرتے رہتے اور مخالفت اور ظلم و تشدد کے طوفان کے آگے ایک مضبوط چٹان بن کر کھڑے ہو گئے اور اس کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔کئی مصیبت زدہ احمدی آپ کی ملاقات کے لئے چنانچہ چند ہی ماہ بعد جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے ایک زبر دست ربوہ آتے افسردہ چہروں کے ساتھ آپ کے پاس پہنچتے اور چہروں پر بشاشت اور ایمانی تازگی لے کر واپس لوٹتے۔تحریک شروع کی گئی جس کی تفصیل 1974ء کا عظیم ابتلاء“ کے عنوان کے تحت دی جاری ہے۔1974ء کا عظیم ابتلاء آپ کی خلافت کے دسویں سال 1974ء میں ایک عالمی سازش کے نتیجے میں پاکستان سے تر رکھو۔۔۔مجسم دعا بن جاؤ اور ہر آن نصرت الہی کے منتظر رہو۔آپ نے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دینا۔ایک پیغام میں فرمایا کہ صبر کرو اور دعائیں کرو۔صبر کرو اور دعائیں کرو۔صبر کرو اور دعائیں کرو اور اپنی سجدہ گاہ کو آنسوؤں میں احمدیت کی مخالفت میں ایک تحریک چلائی گئی۔پہلے سے طے شدہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک معمولی واقعہ کی آڑ میں سارے ملک میں جلوس، روزنامه الفضل ربوہ 8 جون 1974ء) ان دنوں اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما خبر دی وَسعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ جلسے، ہنگامے، ہڑتالیں، احمدیوں کا سوشل بائیکاٹ ،لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔کہ استہزاء کا منصوبہ بنایا گیا ہے تم اپنے مکان وسیع کرتے جاؤ خدا تعالیٰ خود استہزاء کرنے والوں معاندین نے احمدیوں کی بیوت الذکر ، قرآن مجید کے نسخے، احادیث اور حضرت مسیح موعود کی کے لئے کافی ہے وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔کتب اور بعض جگہوں پر احمدیوں کے گھر نذرآتش کر دئیے۔کاروبار تباہ ہوئے فیکٹریوں کو آگ معاندین کے مطالبے پر حکومت نے قومی اسمبلی کے سارے ایوان کو ایک خصوصی کمیٹی میں لگائی گئی۔کئی احمدی راہ مولیٰ میں قربان کر دیئے گئے اکثر نے بڑی بشاشت سے قربانیاں دیں۔تبدیل کر دیا اور یکم جولائی 1974 ء کو اعلان شائع ہوا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو پہلے ایک تحقیقاتی ٹربیونل (Tribunal) میں بیان دینے مسئلہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپر د کر دیا گیا۔کے لئے لاہور طلب کیا گیا جہاں پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی معجزانہ طور پر حفاظت فرمائی۔بعض انتہاء (نوائے وقت لاہور یکم جولائی 1974 ء)