حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 15
27 26 وہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کردیں گے۔دوسرا دورہ مغرب (و مغربی افریقہ) دو ( دین حق ) کے احیاء نو کے لئے آپ نے سپین کا سفر اختیار فرمایا۔آپ کی کیفیت بڑی جذباتی تھی اور دل میں درد تھا کہ جہاں سات سو سال تک ( دین حق ) کا غلبہ رہا۔اب وہاں ( دین حق ) کا نام و نشان نہیں رہا۔ایک رات سخت کرب میں اور ساری رات مسلسل دعائیں کرتے ہوئے گزاری کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ جماعت احمدیہ کو ( دین حق ) کی آپ نے دوسرا دورہ 4 اپریل سے 8 جون 1970 ء تک کیا اس دورے میں آپ یورپ احیاء نو کے لئے اپنی ( بیت الذکر ) بنانے کی اجازت مل جائے اور اپنا مشن ہاؤس بن جائے ابھی کے ممالک سوئٹزر لینڈ، برطانیہ، مغربی جرمنی اور سپین کے علاوہ مغربی افریقہ کے ممالک نائجیر یا، تک کرائے کے مکان میں مشن تھا۔صبح کے وقت آپ کو سورۃ الطلاق کی آیت 4 کا ایک حصہ گھانا ، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، گیمبیا اور سیرالیون بھی تشریف لے گئے۔افریقی ممالک کے الہام ہوا جس کا مطلب ہے کہ جو شخص اللہ پر توکل رکھتا ہے اسے دوسرے ذرائع کی کوئی ضرورت دورے پر جانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: نہیں رہتی اور وہ اس کے لئے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ جو اپنا مقصد بناتا ہے اسے ضرور پورا کر کے ان اقوام کے پاس جاؤں جو صدیوں سے مظلوم رہی ہیں جو صدیوں چھوڑتا ہے۔یہ ہو گا اور ضرور ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور تخمینہ مقرر کیا ہوا سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند مهدی ہے۔تم فکر نہ کرو۔اللہ کافی ہے وہ ہو کر رہے گا۔معہود کے انتظار میں رہی ہیں جن میں سے استثنائی افراد کے علاوہ کسی کو بھی حضور فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔پھر ان کے دلوں میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ آپ کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ ان تک پہنچے صدیوں کے انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں یہ موقع نصیب ہوگا۔“ ”میرے دل میں بڑی تسلی پیدا ہوئی۔“ (الفضل 18 جولائی 1970ء) نصرت جہاں سکیم 1970ء میں مغربی افریقہ کے دورے کے دوران آپ کو القاء ہوا کہ ان مظلوم اقوام کی فلاح و بہبود کے لئے مغربی افریقہ کے چھ ملکوں میں صحت اور تعلیم کے فروغ کے لئے ہسپتال اور (روز نامہ الفضل ربوہ 9 را پریل1970ء) سکول و کالج کھولے جائیں۔آپ نے حضرت مصلح موعود کی خلافت کے سالوں کے برابر آپ نے ان قوموں کو پیار دیا جو مدتوں سے مظلوم چلی آ رہی تھیں آپ نے افریقی ممالک 51 لاکھ روپے کا جماعت سے مطالبہ کیا اور ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ ٹیچروں کو اس مقصد کے سر براہوں سے بھی ملاقات کی جو بڑی محبت اور عزت واحترام سے پیش آئے جیسا کہ حضرت کے لئے زندگی وقف کرنے کیلئے کہا۔جماعت کے مخلصین نے والہانہ لبیک کہا اور جتنی رقم کا مسیح موعود کو الہاما بتایا گیا تھا کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا۔“ مطالبہ کیا گیا تھا اس سے زیادہ رقم خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کر دی۔کئی ڈاکٹروں اور پروفیسروں نے سرکاری نوکریاں چھوڑ کر وقف کے لئے پیش کر دیا اور چند سالوں میں گھانا، (اشتہار 20 فروری 1886ء) نائیجیریا، گیمبیا، سیرالیون، لائبیریا اور آئیوری کوسٹ میں سکولوں اور کلینکس کا جال بجھ گیا۔آپ