حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 20
37 36 ایک دفعہ مجھے یاد ہے ابا نے زمینوں پر دعوت کا انتظام کیا ہوا تھا اور بہت سے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔میرا بیٹا عثمان دواڑھائی سال کا تھا اور حضور کے ساتھ کھڑا ہو کر مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔میں دوسری مہمان خواتین کے ساتھ سیر کیلئے آگے چلی گئی تھی۔عثمان نے مچھلی پکڑنے کے شوق میں بہت جھک کر پانی کی طرف دیکھنا شروع کیا اور اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور تالاب میں گر گیا۔اس وقت سیکیورٹی والے بھی اردگرد موجود تھے اور دوسرے لوگ بھی موجود تھے۔مگر کسی کو فوری طور پر یہ جرأت نہیں ہوئی کہ چھلانگ لگا کر بچے کو نکال لے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ سب ہی سنانے میں آگئے ہیں مگر حضور نے بغیر ایک لمحہ ضائع کئے فوراً پانی میں چھلانگ لگادی اور بچے کو باہر نکال لائے۔ایسے حالات میں کچھ لمحے کیلئے تو انسان کو اپنی جان کا خوف ضرور روکتا ہے اور قوت فیصلہ کند ہو جاتی ہے مگر شاید حضور میں اس قسم کا کوئی خوف سرے سے تھا ہی نہیں۔اس لئے آپ فوری طور پر ضرورت پڑنے پر عملی کوشش کرتے۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 25-24) جانوروں پر شفقت مکرم عبد الغنی جہانگیر صاحب لندن بیان کرتے ہیں:۔چند سال پہلے اکتو بر کی ایک شدید سردشام کے وقت مکرم میجر محمود احمد صاحب کی طرف سے ایک فون موصول ہوا جس میں مجھے ایک عجیب و غریب کیس سے نپٹنے کے لئے بیت الفضل کے ویٹنگ روم میں فورا پہنچنے کی تاکید کی گئی۔میں حیران تھا کہ کس آدمی کی طرف ان کا اشارہ تھا۔اسی شش و پنج میں میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھا کہ آدمی نہیں وہ تو ایک کبوتر تھا جو میرا انتظار کر رہا تھا۔میجر صاحب نے بتایا کہ اس کبوتر کولنگر خانے اور بیت الفضل کے کچن کے برتنوں میں چھلانگ لگا کر بچی کچھی چیزیں کھانے کی عادت ہے۔مگر اس مرتبہ اس نے بد قسمتی سے چھلانگ لگانے سے پہلے برتن میں دیکھا نہیں، جب کہ برتن صفائی کے لئے پانی اور تیل سے بھرا ہوا رکھا تھا۔اس وجہ سے کبوتر بے چارا تیل سے لت پت ہو گیا اور چونکہ اپنے پر خشک نہ کر سکتا تھا اس لئے اُڑنے کے قابل نہ رہا اور اسی حالت میں گھٹتے اور ٹھٹھرتے ہوئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے دروازے تک پہنچا اور وہاں کونے میں بیٹھ کر کانپنے لگا۔مغرب کی نماز سے واپس آتے ہوئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اچانک دیکھا اور میجر صاحب سے فرمایا کہ ابھی اس کا کچھ بندوبست کریں۔میجر صاحب نے یہ عرض کیا کہ میں (جہانگیر صاحب۔ناقل ) اس کی دیکھ بھال کروں اور ساتھ ہی مجھے یہ بھی بتادیا کہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے اس کی رپورٹ بھی دینی ہے کہ اس کا کیا حال ہے۔میں نے کبوتر کو تین مرتبہ شیمپو کیا تا کہ اس کے پروں سے تیل صاف ہو جائے اور پھر اس کو اچھی طرح سے خشک کیا۔اس کے بعد اس کو میں نے تین دن کے لئے