حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 19
35 34 میں بہت ہنگا مے ہو رہے تھے (اس وقت مشرقی بنگال کہلاتا تھا ) میں کراچی میں تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک کام میرے سپر د کیا اور حکم دیا کہ فوری طور پر چلے جاؤ۔میں نے پتہ کروایا تو ساری سیٹیں بک تھیں۔۔۔۔( متعلقہ لوگوں نے کہا۔ناقل ) سیٹ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ ہمیں مسافر انتظار کرنے والوں میں ہیں۔اگر کوئی سیٹ خالی ہوئی تو ہم ان کو دیں گے۔آپ کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں نے کہا اور کوئی جائے نہ جائے میں ضرور جاؤں گا کیونکہ مجھے حکم آگیا ہے۔چنانچہ میں ائیر پورٹ چلا گیا وہاں لائن لگی ہوئی تھی ، مسافر انتظار کر رہے تھے۔کچھ دیر بعد لوگوں کو کہا گیا کہ جہاز چل پڑا ہے۔اس اعلان کے بعد سب لوگ چلے گئے۔کوئی چانس والا باقی نہ رہا۔میں وہاں کھڑا رہا۔مجھے یقین تھا کہ ہوہی نہیں سکتا کہ میں نہ جاؤں۔اچانک ڈیسک سے آواز آئی کہ ایک مسافر کی جگہ رہ گئی ہے کوئی ہے جس کے پاس ٹکٹ ہو؟ میں نے کہا میرے پاس ٹکٹ ہے۔انہوں نے کہا دوڑ و جہاز ایک مسافر کا انتظار کر رہا ہے۔مکرم ضیاء الرحمان وقف جدیدر بوہ لکھتے ہیں:۔(الفضل 25 ستمبر 1998ء) خلافت کا دل میں غیر معمولی احترام تھا۔بارہا ایسا ہوتا کہ آپ کسی ضروری کام میں مصروف ہوتے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کا فون آ جاتا تو بلا توقف حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس تشریف لے جاتے اور کسی قسم کا کوئی بھی توقف نہ کرتے۔جو چیز بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے لئے بازار سے خریدنا ہوتی تو میاں صاحب خود جاتے اور نہایت اعلیٰ اور پائیدار چیز خریدتے اور اگر مجھے خرید کر لانے کے لئے کہتے تو یہ ہدایت خاص طور پر فرماتے کہ سب سے عمدہ اور اعلیٰ چیز خریدنی ہے۔بچوں پر شفقت (ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 172) محترمہ صاحبزادی فائز و صاحبہ بیان کرتی ہیں:۔ربوہ میں گرمیوں کے دنوں میں اکثر بجلی بند ہو جانے کی وجہ سے کمروں میں سخت گھٹن ہوتی تھی تو باہر صحن میں ہونا پڑتا۔مجھے یاد ہے میں بہت چھوٹی سی تھی۔بجلی غائب ہونے پر رات کو اٹھ کر باہر صحن میں گئے تو ابا کے ساتھ چار پائی پر سوئی۔جس پر کوئی بستر وغیرہ نہیں تھا۔اتا نے اپنا بازو میرے سر کے نیچے تکیہ کے طور پر رکھا ہوا تھا۔صبح جب میری آنکھ کھلی تو آپ کا بازو اسی طرح میرے سر کے نیچے تھا۔ابا ساری رات اسی کروٹ پر لیٹے رہے اور بازو پر چار پائی کے نشان پڑ چکے تھے۔معلوم نہیں اس حالت میں آپ سو بھی سکے یا نہیں لیکن اپنے بچے کی تکلیف کے خیال سے بازو ہلا نا پسند نہیں کیا۔