حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 38
ظهور خیر الانبیاء صلی اللہ علیہ و اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر شمع ظلمات پر وار آئی تاریکی پر تاریکی ، اندھیرے پر اندھہرے ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی ہر سمت فساد اُٹھا عصبیان میں ڈوب گئے ایرانی و نارانی ، رومی و بخارائی اللہ رہا کوئی نہ کوئی پیام اُس کا طاغوت کے بندوں نے ہتھیا لیا نام اس کا تب عاش معلی سے ایک نور کا تخت اترا اک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی اک ساعت نورانی خورشید سے روشن تر پہلو میں لئے جلو سے بے حد و شمار آئی کا فور ہوا باطل سب ظلم ہوئے زائل اُس شمس نے دکھلائی جب شاین خود آرائی اطیس ہوا غارت چوپٹ ہوا کام اس کا توحید کی یورش نے ڈر چھوڑا نہ باہم اس کا