حضرت خلیفۃ المسیح الرابع

by Other Authors

Page 8 of 49

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 8

اور تارک الدنیا بزرگ تھے۔آپ کو پیر کی مرید ہی سے نفرت تھی اسی لئے آپ اپنے اقربا کو دنیا داری میں منہمک دیکھ کر کلرسیداں سے موضع سہالہ چوہدراں میں (جہاں آجکل اسٹیشن ہے ) گوشہ نشین ہو گئے۔اس کے قریب ہی ناڑاں سیداں میں ان کے مالکانہ حقوق تھے اور طبابت بھی کرتے تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنی خود نوشت سوانخ میں (جو شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے تحریر فرمایا ہے کہ سلطنت مغلیہ کے ایام میں کلر سیداں ایک مشہور قلعہ تھا جس کے تحت سترہ چھوٹے بڑے قلعے مضافات میں تھے۔ایک وسیع علاقہ تھا جس کا انتظام سادات کے سپرد تھا۔پانی پت کی تیسری لڑائی میں سادات کلر کی فوج اور کہوٹہ کے گکھڑوں کی فوج نے مرہٹوں کی فوج کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔سکھوں کی عمل داری میں رنجیت سنگھ نے سادات کلر کے ساتھ عہد موالات قائم کیا ہوا تھا اور انہوں نے چیلیانوالی کی مشہور لڑائی میں انگریزوں کے خلاف سکھوں کی مدد کی تھی جس میں سکھوں اور ان کے مددگاروں کو شکست ہوئی۔انگریزوں نے کلر کا قلعہ تو وہ خاک بنا دیا اور تمام