حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 39
۳۹ وہ پاک محمد ہے سب کا حبیب آقا انوار رسالت ہیں جس کی چمن آرائی مجبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا قدموں پہ نشار اُس کی جمشیدی و دارائی نبیوں نے سجائی ہے جو بزم مہ و انجم واللہ اُسی کی ہے سب انب من آرائی دن رات درود اس پر ہر ادنی غلام اُس کا پڑھتا ہے بعد منت جیتے ہوئے نام اُس کا آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی ہم ڈر کے فقیروں کے بھی بخت استوار آئی ظاہر ہوا وہ جلوہ جو اُس نے نگہ پلیٹی تو حسن نظر اپنا سو چند نکھار آئی اسے چشم خزاں دیدہ کھل کھل کے سماں بدلا اسے فطرت خوابیدہ اٹھ اٹھ کہ بہار آئی نیوں کا امام آیا اللہ امام اُس کا سب تختوں سے اونچا ہے تخت عالی مقام اس کی