حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 17
12 سوم : " روز مرہ کی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے اولاد کی طرف خاص توجہ دینے کی فرصت نہیں ملی مگر ہم سے توقعات ایسی بلند رکھی ہوئی تھیں کہ گویا ۲۴ گھنٹے ہمیں پر کھپاتی ہیں ہماری غلطیوں پر سخت ناراض ہوتی تھیں اور بعض اوقات بدنی سزا بھی دیتی تھیں۔زیادہ تر یختہ بیچنے کی ضد پر آتا تھا اگر کوئی بچے اپنی ضد پر اڑ تو بیٹھ جائے تو اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک اس کی چند نہ توڑ لیں۔نصائح عام طور پر اس رنگ میں کرتی تھیں کہ دل میں اتر جاتی تھیں۔اگر کسی امر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دینا ہو تو وہ ضرور دیتی تھیں۔مثلاً ایک دفعہ بہشتی مقبرہ سے دعا کر کے واپس آ رہے تھے راستے میں کوئی شخص گزرا جس نے نہ ہمیں سلام کیا نہ میں نے اُسے۔اس پر مجھ سے بہت مایوس ہوئیں کہ تمہیں اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ راستہ چلتوں کو سلام کرو۔میں نے کہا اُس نے بھی تو نہیں کہا تھا تو کہنے لگیں تمہیں اس سے کیا غرض ؟ - آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو سب کو پہلے سلام کیا کرتے تھے۔پھر نصیحت کی کہ دیکھو خواہ کوئی واقف ہویا نا واقف ہو اُسے پہلے سلام کیا کرو“ (تابعین اصحاب احمد جلد سوم