سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 9 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 9

15۔14: پیچھے پیچھے رکھا اور خود آگے آگے چلے۔لیکن اس نے کچھ نہ کیا۔پھر جب آپ گھر کے دروازے پر پہنچے تو گھر کی سیڑھیوں کے اوپر کھڑے ہو کر اس کو نیچے کی سیڑھی پر کھڑا کر کے باتیں کرنے لگے۔تاکہ وہ اطمینان سے چھری مار سکے۔لیکن وہ اس قدر گھبرا گیا کہ اس نے آپ سے کہا کہ اب اجازت دیں۔میں واپس جاتا ہوں۔جب قتل کے ارادوں میں بھی ناکامی ہوئی تو مولویوں نے آپ کو بھیرہ سے نکال دینے کی تجاویز سوچنا شروع کر دیں۔نانبائی اور تجام پر دباؤ ڈالا کہ وہ آپ کا بائیکاٹ کر دیں لیکن وہ اپنی جگہ پر اڑے رہے اور کسی کی بات نہ مانی۔مولوی زیادہ ہونے کے باوجود آپ سے ڈرتے تھے۔جب بھی اکٹھے بیٹھتے آپ کو برا بھلا کہتے۔مگر بعض دفعہ جونہی ان کی نظر آپ پر پڑتی تو بالکل خاموش ہو جاتے۔اور آپ کے سامنے آپ کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہہ سکتے۔وہ دلوں میں مانتے تھے کہ آپ بہت بڑے عاشق رسول ہیں۔کہا کرتے تھے کہ دشمنی کے باوجود ہم ان کو ولی کہتے ہیں۔بھیرہ میں سکول اور ہسپتال جاری کرنا حضرت مولوی صاحب نے بھیرہ میں آتے ہی قرآن وحدیث پڑھانا شروع کر دیا۔شروع میں آپ نے حدیث کی کتاب مشکوۃ پڑھانی شروع کی۔یہ درس آپ کی خاندانی مسجد میں ہوتا تھا۔آپ کے والد صاحب بھی آپ کے درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔اس کے علاوہ دوسروں کی خدمت کے لئے ایک ہسپتال شروع کر دیا۔غریبوں کو مفت دوا دیتے۔آہستہ آہستہ مریضوں کا ہجوم آپ کے پاس جمع ہو گیا۔آپ کے ہسپتال کی یہ خاص بات تھی کہ یہ ایک مکمل سکول بھی تھا جس میں قرآن وحدیث اور دوسرے علم بھی پڑھائے جاتے تھے۔مکان بنانے کا واقعہ بھیرہ میں آپ کا ہسپتال ایک وسیع مکان میں تھا۔اس جگہ پر آپ نے اپنے والد صاحب کے حکم سے کام شروع کیا تھا۔مگر والد صاحب کی وفات کے بعد آپ کے بڑے بھائی سلطان احمد صاحب نے کہا کہ یہ مکان میرے روپے سے خریدا گیا تھا۔اس لئے آپ یہ بات لکھ کر دے دیں۔آپ نے بڑی خوشی سے یہ لکھ دیا کہ مکان کے پیسے میرے بھائی صاحب نے دیئے تھے اور شاگردوں سے کہا کہ دوائیاں اٹھا کر فلاں مسجد کے کمرے میں رکھ دو۔اور اسی وقت مکان خالی کر دیا۔شہر میں ایک سرکاری زمین تھی۔آپ نے اپنے ایک دوست مستری سے کہا کہ تم اس پر مکان بناؤ۔ایک ہندو سے کہا کہ تم روپیہ دے دو۔مکان بننا شروع ہو گیا۔وہاں کے تحصیلدار نے کہلا بھیجا۔ایک تو مکان بغیر اجازت بنا نا ٹھیک نہیں پھر حکومت کی زمین میں مکان بنانا قانون کے خلاف ہے۔ہم نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ کر دی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بنا بنایا مکان گرا دیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر صاحب موقع پر آئے۔اور آپ سے کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ سرکاری زمین ہے۔آپ نے کہا۔ہاں سارا شہر ہی سرکاری زمین ہے۔انہوں نے پوچھا وہ کس