سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 8 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 8

13۔12۔اب آپ پریشان ہوئے اور گھر سے باہر نکل کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دعا مانگی۔اے خدایا! ایک جاہل کے سپر د روٹی پکانے کا کام کرنا اپنے رزق کو ضائع کرنا ہے۔میں نالائق ہوں۔مجھے کیا پستہ روٹی پکانا کیا ہوتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی اور جس استاد سے آپ پڑھتے تھے اسی کے گھر روٹی کھانے کا انتظام ہو گیا۔نماز با جماعت رہ جانے پر آپ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدینہ منورہ میں مقیم تھے کہ ایک دن کسی وجہ سے ظہر کی نماز با جماعت آپ کو نہ مل سکی۔آپ کو شدید رنج ہوا۔آپ نے سوچا یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ یہ بخشش کے قابل ہی نہیں۔خوف کے مارے آپ کا رنگ زرد پڑ گیا۔مسجد کے اندر داخل ہونے سے بھی ڈر لگنے لگا۔آپ مسجد کے دروازے کے باہر پہنچے تو دروازے پر ایک آیت لکھی دیکھی جس کا مطلب یہ تھا کہ اے خدا کے بندو! اگر تم کوئی گناہ کر بیٹھو تو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوا کرو۔وہ بہت ہی بخشنے والا اور رحیم ہے۔اس آیت کو پڑھ کر آپ کی کچھ ڈھارس بندھی۔پھر بھی آپ ڈرتے ہوئے اور حیرت زدہ ہو کر گھبراہٹ کی حالت میں مسجد میں داخل ہوئے۔اور نماز پڑھنی شروع کی۔نماز میں آپ نے گڑ گڑا کر یہ دعا مانگی۔یا الہی! میرا یہ قصور معاف فرما دے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز با جماعت کتنی ضروری چیز ہے اور آپ اس کے کتنے پابند تھے۔1868-69ء میں آپ دوبارہ مکہ تشریف لے آئے۔حج کے مہینے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کداء کے رستے سے مکہ میں داخل ہوئے۔اللہ کے گھر کی برکتوں سے مالا مال ہو کر آپ مکہ معظمہ سے جدہ اور جدہ سے بذریعہ جہاز بمبئی واپس آگئے۔آپ کی بہادری کا ایک واقعہ آپ کی عمر میں سال کے قریب تھی۔جب آپ مکہ سے واپس آ کر اپنے وطن بھیرہ میں رہنے لگے۔آپ کے وطن کے عالموں نے آپ کے دینی علم کا بہت مقابلہ کرنا چاہا اور علم کے میدان میں آپ کو ہرانے کی کوشش کرنی چاہی۔جب ناکام ہو گئے تو آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑ کا نا شروع کر دیا۔آپ کی مخالفت کا اتنا زور ہوا کہ ایک شخص جو آپ کا دودھ شریک بھائی تھا۔اس نے آپ کے دشمنوں سے کہا کہ میں نورالدین کو چھری مار کر ختم کر دوں گا۔آپ کو بھی پتہ چل گیا۔اور ایک رات عشاء کی نماز کے بعد آپ اس کے گھر چلے گئے۔اس کی ماں کا چونکہ آپ نے دودھ پیا تھا۔اس لئے وہ آپ سے پردہ تو کرتی ہی نہ تھیں۔آپ ان کے گھر جا کر لیٹ گئے۔سب نے سمجھا کہ آپ سو گئے ہیں۔آپ کے دل میں یہ خیال تھا کہ دیکھیں یہ کس طرح چھری مارے گا۔جب آدھی رات کا وقت ہوا تو اس کی ماں نے آپ کو جگایا اور کہا بیٹا ! تم اپنے گھر جاؤ۔آپ نے کہا میں یہیں سوؤں گا۔کیونکہ آدھی رات تو گزرگئی ہے۔اس نے کہا۔نہیں تم اپنے گھر جا کر سوؤ۔آپ نے کہا میں اکیلا نہیں جاؤں گا۔میرے دودھ شریک بھائی کو بھی میرے ساتھ بھیجو تا کہ وہ مجھے میرے مکان تک چھوڑ آئے۔وہ آپ کے ساتھ چل پڑا۔آپ نے جان بوجھ کر اس کو