سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 12
21 20: جلسے کے مہمانوں کے لئے قادیان میں ایک مکان بنوایا۔وطن کا خیال چھوڑ دیں ستمبر 1892ء میں آپ اپنے وطن بھیرہ واپس تشریف لے آئے اور ایک بہت بڑا ہسپتال اور مکان بنانا شروع کر دیا۔ابھی یہ کام ختم نہ ہوا تھا کہ کسی کام سے لاہور تشریف لائے اور وہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے قادیان تشریف لے گئے۔حضور نے فرمایا۔اب تو آپ فارغ ہیں۔یہاں رہیں۔آپ سمجھے دو چار روز کے لئے فرماتے ہیں۔ایک ہفتہ خاموش رہے پھر حضور نے فرمایا آپ اکیلے میں اپنی بیوی کو بھی بلوا لیں۔تب آپ سمجھے زیادہ دن رہنا پڑے گا۔اور مکان اور ہسپتال کا کام بند کر وا دیا۔چند روز بعد حضور نے فرمایا۔کتابوں کا شوق ہے یہیں منگوا لیں۔پھر ایک روز فرمایا دوسری بیوی بھی یہیں بلوا لیں۔پھر فرمایا۔وطن کا خیال چھوڑ دیں۔اور پھر آپ نے خواب میں بھی کبھی وطن نہ دیکھا۔قادیان آنے کے بعد کئی لوگوں نے آپ کو کہا کہ قادیان کی بجائے لاہور یا امرتسر میں ہسپتال بنا لیں۔مگر آپ نے ان بڑے شہروں کی بجائے قادیان جیسا چھوٹا گاؤں پسند کیا۔اور اپنے پیارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہنے لگے۔صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے۔اس کے بعد لوگوں کو قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھایا کرتے۔نماز عصر کے بعد روزانہ قرآن مجید کا درس دیتے تھے۔مہمانوں کی امانتیں اپنے پاس رکھتے۔غریبوں کی مدد کرتے۔احمدیوں کو اچھے کاموں کے کرنے اور بُرے کاموں سے بچنے کی نصیحت کرتے رہتے تھے۔صبح سے شام تک سوائے نمازوں کے وقت کے ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے تھے۔جس میں صرف چٹائی بچھی ہوتی۔صبح کے وقت عورتوں میں بھی قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔بیت اقصیٰ میں نماز جمعہ پڑھاتے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد نمازیں بھی پڑھاتے رہے۔آپ کو باقاعد و سیر کی عادت نہ تھی۔لیکن کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو اپنے ساتھ سیر کے واسطے لے جایا کرتے تھے۔جب قادیان میں کالج بنا تو آپ اس میں عربی پڑھاتے رہے۔صدر انجمن احمد یہ کے صدر تھے۔قادیان میں آپ کے خرچ کی صورت بظاہر ڈاکٹری کے سوا اور کچھ نہ تھی۔آپ فرمایا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے میری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔جنگ مقدس" میں شمولیت وو 22 رمئی سے 15 جون 1893 ء تک امرتسر میں ایک مشہور مباحثہ ہوا۔جسے’ جنگِ مقدس“ کہتے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور عیسائیوں کے پادری عبد اللہ آتھم کے درمیان تھا۔اس مباحثہ میں حضرت خلیفہ امسیح الاوّل بھی تھے۔ایک دفعہ کسی عیسائی نے سوال کیا کہ پندرہ دن امرتسر میں بحث ہوتی رہی مگر نتیجہ کیا نکلا۔آپ نے فرمایا چار نتیجے نکلے۔اول۔عیسائیوں جیسا جھگڑالو دنیا میں کوئی نہیں۔