سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 11
19۔18- تھا۔اور حضرت خلیفہ مسیح الاول کو یہ اشتہار ایک ہندو کے ذریعہ ملا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا میں مصروف تھے کہ یا اللہ ! اپنے دین حق کی خدمت کے لئے مجھے کوئی ساتھی دے۔آپ کی دعا ئیں آسمان تک پہنچیں۔اور خدا نے کشمیر سے حضرت مولوی نورالدین صاحب جیسا بہترین ساتھی بھیج دیا۔اور وہ خبر پوری ہو گئی کہ امام مہدی کے ساتھی کشمیر سے بھی آئیں گے۔اس وجہ سے آپ کا آنا ایک نشان تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے میری دعائیں قبول کیں۔اور مجھے ایک مخلص، پیار کرنے والا دوست دیا۔جس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے۔اسلام کے سرداروں میں سے ہے۔بزرگوں کی نسل سے ہے۔مجھے آپ کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی ہے کہ گویا کوئی اپنے ہی جسم کا ٹکڑا مل جائے۔اور میں اس طرح خوش ہوا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر فاروق " کے ملنے سے ہوئے تھے۔مجھے سارے غم بھول گئے۔جب میں نے آپ کو دیکھا۔مجھے یقین ہو گیا کہ آپ ہی میری دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔فصل الخطاب“ کی تصنیف آپ جلد ہی دوبارہ قادیان تشریف لائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ آپ کے لئے کیا خدمت کروں۔فرمایا۔خدمت یہی ہے کہ عیسائیوں کے مقابل پر ایک کتاب لکھیں۔چنانچہ آپ نے ایک کتاب لکھی جو عیسائی مذہب کے خلاف بہت اچھی کتاب تھی اور بعض بچوں تک نے آپ کو اس پر مبارک باد بھی دی۔اس کتاب کا نام "فصل الخطاب" ہے۔آپ نے نوکری سے استعفے دے کر حضور کی خدمت میں آنے کا ارادہ کر لیا۔حضور کو علم ہوا تو آپ نے مشورہ دیا کہ نوکری بالکل نہ چھوڑیں۔چنانچہ حضور کی مرضی کے مطابق آپ کا استھلنے ہی منظور نہ ہوا۔اور آپ کچھ دیر ریاست کشمیر میں ہی بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوستی کا حق ادا کرتے رہے۔کشمیر میں آپ نے مسلمانوں کی بہت مدد کی۔سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کی ایک انجمن بنائی۔اور حضرت خلیفہ امسیح الاول ہمیشہ اس کی مدد کرتے رہے۔ایک برہمن خاندان کا نوجوان آپ کی دعوت الی اللہ سے مسلمان ہو گیا اور آپ کی وجہ سے ایک مسلمان خان بہادر شیخ عبد اللہ اسمبلی کا ممبر بن گیا۔پہلی بیعت حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ درخواست کر رکھی تھی کہ آپ جب بھی بیعت لیں تو سب سے پہلی بیعت میری ہو۔جب حضور علیہ السلام کو خدا کی طرف سے بیعت کا حکم ملا تو 23 / مارچ 1889ء کو حضرت مولوی صاحب نے سب سے پہلے بیعت کی برکت حاصل کی۔اور آپ کی درخواست پر حضور نے اپنے قلم سے بیعت کے الفاظ لکھ کر دے دیئے۔27/ دسمبر 1891ء کو نماز ظہر کے بعد بیت اقصیٰ قادیان میں سب سے پہلا جلسہ سالانہ ہوا۔اس میں 75 احمدی دوستوں نے حصہ لیا۔اس جلسہ کی برکتوں سے حضرت مولوی صاحب نے بھی فائدہ اٹھایا۔اور آپ نے اسی سال