سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 10
17: 16- طرح؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر حکومت کو اس شہر پر فوجی میدان بنانا پڑے۔تو کیا شہر کے لوگ انکار کر سکتے ہیں۔اس نے کہا نہیں کر سکتے۔آپ نے فرمایا۔بس اسی طرح ہر زمین حکومت کی زمین ہی کہلاتی ہے۔تب اس نے کہا کہ آپ کا مکان کتنے حصے میں بن سکتا ہے؟ آپ نے کہا ایک طرف سڑک ہے دوسری طرف بھی۔اس کے درمیان جتنی زمین ہے اس پر مکان بن سکتا ہے اس نے کہا ابھی شروع کر دو۔پھر کمیٹی والوں سے پوچھا کہ کوئی اعتراض ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا مکان تو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب بولے کہ آپ مکان بنائیں۔اس طرح اللہ کی مدد سے آپ کا مکان بن گیا۔بھوپال اور کشمیر کا سفر۔منشی جمال الدین صاحب ریاست بھوپال کو آپ سے بہت محبت تھی اس کی وجہ سے وہ چاہتے تھے کہ آپ دوبارہ بھو پال تشریف لائیں۔چنانچہ آپ نے ان کی دعوت قبول کر لی اور بھیرہ سے روانہ ہو گئے۔کچھ مدت تک وہاں رہے۔پھر ریاست کی ملازمت چھوڑ کر واپس آگئے۔اس کے بعد مہاراجہ رنبیر سنگھ جو ریاست جموں وکشمیر کے والی تھے کی دعوت پر وہاں کی ملازمت اختیار کر لی۔پانچ سو روپے ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی۔آپ کے ہاتھوں بہت سے ایسے بیمار ٹھیک ہوئے جن کی بیماری بہت مشکل کبھی جاتی تھی۔ملازمت کے دوران ( دین حق ) کی تبلیغ کرتے رہے۔تبلیغ اور تربیت کے اعتبار سے یہ زمانہ بہت اہم تھا۔آپ کو قرآن سنانے کا بہت شوق تھا۔ایک دفعہ آپ نے ہندوؤں کی مجلس میں چند روز قرآن سنایا وہاں ایک ہندو افسر کا بیٹا بھی آتا تھا۔کہنے لگا کہ انہیں قرآن سنانے سے روکو۔ورنہ میں مسلمان ہو جاؤں گا۔قرآن بڑی اچھی کتاب ہے اس کا مقابلہ نہیں ہوسکتا اور نورالدین کے سنانے کا طریقہ بھی بہت خوبصورت ہے۔1881ء میں ایک راجہ کے ساتھ ایک شہزادہ کی شادی پر تشریف لے گئے۔آپ ہاتھی پر سوار تھے ایک اسپرنگ کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئے۔زخم خدا خدا کر کے ٹھیک ہوا تو ایک گھوڑی پر روانہ ہوئے۔لیکن چار میل بعد آگے جانے کی طاقت نہ رہی تو کسی دوست نے پالکی کا انتظام کیا۔آپ اس میں لیٹ گئے اور شکریہ میں قرآن مجید یاد کرنا شروع کر دیا۔ایک مہینے کا سفر تھا۔جب آپ جموں پہنچے تو چودہ پارے حفظ کر چکے تھے۔باقی بعد میں یاد کئے۔اس طرح آپ کو بھی اپنے بزرگوں کی طرح قرآن شریف زبانی یاد کرنے کی سعادت ملی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعارف ضلع گورداسپور کے ایک صاحب شیخ رکن الدین صاحب نے بتایا کہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کے حق میں رسالے لکھے ہیں۔آپ نے یہ سن کر حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا اور کتابیں منگوائیں۔مارچ 1885 ء سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا اشتہار دیکھتے ہی پروانوں کی طرح جموں سے قادیان پہنچے۔اور خدا کے اس بندے کو پہچان لیا۔یہ اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی سے متعلق تمام دنیا کے عالموں کو بھجوایا