حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 3
3 2 تعارف میرا باپ ولید قبیلہ بنو مخزوم کا سردار اور مکہ کا رئیس اعظم تھا میری ماں کا نام لبابہ تھا۔عرب میں قریش اور قریش کے قبیلوں میں سے بنو ہاشم ، بنو امیہ اور بنو مخزوم کی سب سے زیادہ عزت کی جاتی تھی۔اُس زمانے میں مختلف قبیلوں کی اپنی اپنی حکومت ہوتی تھی۔مکہ میں قریش حکومت کرتے تھے۔قریش نے حکومت کے کام اپنی شاخوں میں بانٹے ہوئے تھے۔ہمارے خاندان بنو جس روز میدان موتہ میں اسلام کے غازی عیسائی رومی فوجوں کے ساتھ جنگ مخزوم کے ذمہ جنگی معاملات تھے۔ہمارا خاندان گھوڑے پالتا اور سدھا تا تھا۔جن پر سوار لڑ رہے تھے اُسی روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں الہام الہی کے ذریعہ جنگ ہو کر قریش جنگ کرنے جاتے تھے۔جنگی تیاریاں اور سامانِ جنگ فراہم کرنا اور قریش کے کے حالات کی اطلاع ہوئی۔آپ نے اُسی وقت تمام مسلمانوں کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور جنگی دستوں کو افسر مہیا کرنا بھی ہمارے خاندان کا کام تھا۔اس لئے میرے ماحول نے بچپن منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ: سے ہی مجھ پر بہت اثر کیا۔میں جلد ہی ایک اچھا گھڑ سوار بن گیا۔میں نے اپنے باپ سے لڑائی کے گر سیکھے۔تیر کمان چلانے ، تلوار چلانے ، نیزے اور برچھی استعمال کرنے میں میں بہت جلد ماہر ہو گیا۔میں اکثر گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کرنے جاتا تھا اور صحراؤں میں سفر تمہارے لشکر کی خبر یہ ہے کہ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کیا زید شہید ہوا۔اللہ نے اُس کو بخش دیا۔اس کے بعد جعفر نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا۔دشمنوں کرتا پھرتا تھا۔ہمارے گھر میں بہت پیسہ تھا اور میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرتا تھا۔میرے نے اُسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہوا۔اللہ نے اس کو ماحول نے مجھے بہادر، نڈر اور جفاکش بنا دیا۔میری صحت اچھی تھی اور میرا قد چھ فٹ سے بھی بھی بخش دیا۔پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا۔وہ بھی دشمنوں سے لڑ کر شہید ہوا۔یہ سب کے سب جنت میں اُٹھالئے گئے۔ان تینوں کے بعد اسلامی جھنڈے کو خالد بن ولید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور جنگ کی بگڑی ہوئی حالت کو سنبھالا۔وہ میرے مقرر کردہ جرنیلوں میں سے نہیں 66 تھا وہ تو اللہ کی تلوار ہے۔“ بلند ہو گیا۔ہم سات بھائی تھے لیکن گھڑ سواری اور جنگی قابلیت میں میں سب سے آگے نکل گیا۔میں نے جنگیں لڑنا اور فتح پانا اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔مکہ کے سب بہادر لڑ کے میرے دوست بن گئے۔جن میں حضرت عمرؓ ، عمر و بن العاص اور ابو جہل شامل تھے۔ابو جہل کے بیٹے عکرمہ سے مجھے بہت پیار تھا۔میری زندگی کے دو دور ہیں ایک وہ دور جب میرے خاندان نے رسول اللہ کی مخالفت وہ اللہ کی تلوار میں ہوں۔میرا نام خالد ہے میں نے اپنی آنکھیں قریش کے قبیلہ بنو کی اور ہم نے رسول اللہ کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔دوسرا وہ دور ہے جب میں نے اسلام مخزوم میں کھولیں۔میں اپنے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بارہ سال بعد مکہ قبول کیا اور مجھے اسلام کی خدمت کی توفیق ملی ، اور میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بڑی میں پیدا ہوا۔میں حضرت عمر کا ہم عمر تھا۔میری کنیت ابوسلیمان ہے۔بڑی فتوحات عرب ، فارس اور شام میں عطا فرمائیں۔