سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ

by Other Authors

Page 18 of 24

سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 18

۱۸ وہی پہاڑ ہے جس کی گھائی سے گزر کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقع پر مدینہ سے مکہ معظمہ میں رونق افروز ہوئے تھے۔آپ کے مزار پر عرصہ تک ایک چوبی تابوت رکھا رہا نشہ میں اس کی حفاظت کے لئے ایک شاندار قبہ تعمیر کیا گیا جس کی مرمت ۱۲۹ میں ہوئی یہ بعض روایات کے مطابق اسی کے قریب حضرت عبد المطلب اور حضرت ابوطالب کی قبریں بھی ہیں۔مکہ معظمہ کا یہ قدیم ترین قبرستان " جنّت معلمی کہلاتا ہے ذکاء الملک علامہ ڈاکٹر فریدون زمان محمد شجاع کے سفر نامہ حج و حرمین ۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قبرستان کے جیتے ، کتنے اور تعمیرات انقلابات زمان کی بدولت مٹ چکی ہیں اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیس کی قبر ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی الله عنها کی جدائی کا غم عمر بھر نہیں بھلا سکے۔تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں آپ کے داماد ابو العاص بھی تھے۔ان کے فدیہ میں آنحضرت کی صاحبزادی حضرت زینب نے جو ابھی مکہ میں تھیں کچھ چیزیں بھیجیں جن میں وہ ہار بھی تھا جو آپ کی پیاری بیوی حضرت خدیجہ مانے جہیز میں اپنی بیٹی س مرءة الحرمین جلد اصفحه ۳۰-۳۱ از رفعت پاشای مطبوعہ مصر- اس کتاب میں حضرت خدیجہ کے قحبہ کی تصویر بھی دی گئی ہے :