حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 13

(13) پیدا ہوئے۔مگر مراد یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ قومی طور پر بڑی تعداد بہت بعد میں آنے والے محبت کی باتیں کرتے ہیں لیکن وہ لوگ یا ان کے مزاج کے لوگ جو اس برگزیدہ کی زندگی میں اُس زمانے میں ہوتے ہیں وہ اُس کو نہیں پہچانتے اور یہ حقیقت ہے۔قرآن کریم میں اسی لئے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے والی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ تم وہی ہو جس نے موسی کو اذیتیں دی تھیں۔تم وہی ہو جو اس زمانے میں نبیوں کو قتل کیا کرتے تھے۔حالانکہ وہ تو دو ہزار سال بعد پیدا ہوئے تھے وہ وہ کیسے ہو گئے ؟ مراد یہ ہے کہ تم ایسے لوگ ہو کہ تمہاری سرشت ایسی ہے اگر تم اس زمانے میں ہوتے تو وقت کے مقدس انسان کو پہچان نہ سکتے اور ضرور اس کی دشمنی اور عزبات اور جان کے در پے ہوتے اس کی دشمنی میں ، اس کی عزت اور جان کے در پے ہوتے لیکن اب تم اس کی محبت کی باتیں کرتے ہو۔حضرت مسیح موعود ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ جب برگزیدہ لوگوں کی زندگی میں اس وقت سے حصہ پاتے ہیں تو کبھی اُن کو پہچان نہیں سکے اور جب وفات پا جاتے ہیں یا ویسے کسی وجہ سے اُن سے دور ہٹ جاتے ہیں۔زمانے بدل جاتے ہیں اُس وقت پھر یہ اُن کی محبت کے گیت گاتے اور ان کے نام کو اچھالتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین" کی یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مظہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف اُن کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔جو شخص مجھے برا کہتا ہے یالعن وطعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لا ناسخت معصیت سمجھتا ہوں“۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۴۶،۵۴۵) جو مجھے برا سمجھتا ہے مجھ پر لعن و طعن کرتا ہے اس کا بدلہ میں معصومین سے نہیں لیتا اور شوخی کے طور پر اُن پر اپنا غصہ آ تار نا ایک سخت لعنت کی بات سمجھتا ہوں سخت گناہ سمجھتا ہوں۔