حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 42
82 81 تعزیت کے خط میں آپ کی وفات ” قومی نقصان قرار دیا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں : حافظ صاحب کی وفات ایک قومی نقصان ہے اور اس صدمہ میں تمام جماعت آپ لوگوں کے شریک حال الفضل ۵/ جولائی ۱۹۲۹ ء ص ۱۱) ہے۔ایک اور موقعہ پر حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: میں سمجھتا ہوں میں ایک نہایت وفا دار دوست کی نیک یاد کے ساتھ بے انصافی کروں گا۔اگر اس موقعہ پر حافظ روشن علی صاحب کی وفات پر اظہار رنج و افسوس نہ کروں۔حافظ صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص اور بے نفس انسان تھے۔میں نے ان کے اندر وہ روح دیکھی جسے اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواہش تھی۔ان میں تبلیغ کے متعلق ایسا جوش تھا کہ وہ کچھ کہلوانے کے محتاج نہ تھے۔بہت لوگ مخلص ہوتے ہیں کام بھی اچھا کرتے ہیں۔مگر اس امر کے محتاج ہوتے ہیں کہ دوسرے انہیں کہیں۔یہ کام کرو تو وہ کریں۔حافظ صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا وہ سمجھتے تھے گو خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے۔مگر ہر مومن کا فرض ہے کہ ہر کام کی نگہداشت کرے اور اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے۔وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا ایسا ہی ذمہ دار سمجھتے تھے۔جیسا اگر کوئی مسلمان بالکل اکیلا رہ جائے اور وہ سمجھے یہ ان میں ایک نہایت ہی قابل قدر خوبی تھی۔اور اس کا انکار ناشکری ہو گی۔یہ خوبی پیدا کئے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی کہ ہر شخص محسوس کرے سب کام مجھے کرنا ہے اور تمام کاموں کا میں ذمہ دار ہوں۔میں سمجھتا ہوں ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے چالیس مومن میسر آ جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر لوں۔یعنی ان میں سے ہر ایک محسوس کرے کہ مجھ پر ہی جماعت کی ساری ذمہ داری ہے اور میرا فرض ہے کہ ساری دنیا کو فتح کروں۔خدا کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش سے بہت بڑھ چڑھ کر ایسے لوگ ہوں۔جیسا کہ نبیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی سنت ہے۔ایسے چالیس آدمی نہیں بلکہ لاکھوں میسر کر دے جن میں سے ہر ایک یہ سمجھے کہ آسمان اور زمین کا بار اٹھانا اسی کا فرض الفضل ۷/جنوری ۱۹۳۰ء ص۳) ہے۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب فوت ہوئے تو حضور نے فرمایا۔میر محمد اسحاق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے۔در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر اگر کسی کو تھا تو ان کو رات دن قرآن و حدیث لوگوں کا پڑھانا ان کا مشغلہ تھا۔وہ زندگی کے آخری