حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 26 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 26

50 49 دوسروں کا بوجھ بٹانے کے لئے ہر دم مستعد درہتے تھے۔اور جب کسی سفر میں تبلیغی وفد یا کسی اور صورت میں قافلہ کے امیر ہوتے۔تو آپ نے ہمیشہ اپنے رفقاء کے آرام و آسائش کا خیال رکھا۔اور اپنی سہولت پر ان کے آرام کو مقدم رکھا آپ کے عمل میں صحیح خادما نہ کیفیت پائی جاتی تھی۔اور سفر میں آپ اپنے ہمراہیوں سے نہایت نرم اور خوش اخلاق رہتے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس جو آپ کے شاگردوں میں سے خاص امتیاز کے حامل تھے۔تحریر فرماتے ہیں کہ : ’آپ کے ساتھ میں نے دہلی، مونگھیر ، بھوپال، ڈیرہ دون ، منٹگمری ، پٹیالہ، سیالکوٹ، لاہور، نارووال، گجرات ، جلال پور جٹاں، مالیر کوٹلہ وغیرہ شہروں کا دورہ کیا۔مگر ایک دفعہ بھی مجھے کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملا۔آپ نہایت متواضع بلکہ مجسم محبت تھے۔آپ خوش مزاج ملنسار طبیعت رکھتے تھے۔مجھے یاد ہے جب میں آپ کے ہمراہ بھوپال گیا۔تو راستہ میں دہلی سے ہمیں بمبئی میل پر سوار ہونا پڑا۔اس وقت مجبوراً سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لینا پڑتا تھا۔اور اتنا کرا یہ ہمارے پاس نہ تھا آخر ایک سرونٹ ٹکٹ لیا۔آپ ان دنوں کچھ مریض بھی تھے مگر یہ امر آپ پر سخت گراں گزرا۔آپ بارہا مجھ سے راستہ میں سٹیشنوں پر اتر کر فرماتے۔آؤ جگہیں تبدیل کر لیں۔مگر میں نے منظور نہ کیا۔66 الفضل ۲۶ جولائی ۱۹۲۹، ص۲) شاگردوں سے محبت اور شفقت کا سلوک : حافظ صاحب کی عمر کا اکثر حصہ تعلیم اور تدریس میں ہی گذرا۔اور اس وقت جماعت کا ہر نوجوان آپ کا شاگر د تھا۔لیکن ۱۹۲۰ء سے جب کہ آپ کے سپر د تبلیغی کلاس کی گئی آپ تا وفات با قاعدہ معلم کے فرائض ادا کرتے رہے۔آپ اپنے شاگردوں سے نہایت بے تکلف تھے۔اور ان سے نہایت محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔انہیں جس بات کی ضرورت ہوتی وہ بلا جھجھک آپ سے بیان کر دیتے۔اور آپ خود ہی اسے انجمن میں پیش کر کے فیصلہ کرواتے۔آپ شاگردوں کے حقوق کی ہر وقت نگہداشت فرماتے۔ان کے حالات کا خیال رکھتے۔اور ان کی دینی و دنیوی حالت کی اصلاح کے لئے پوری پوری کوشش فرماتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ شاگردوں کی تکلیف یا دکھ کا خود ہی احساس کر کے اس کا ازالہ فرما دیتے۔انہیں آپ سے کہنے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔اگر کوئی شاگرد چند دن نظر نہ آتا۔تو کسی سے اس کے حالات در یافت فرماتے۔اور اکثر خود اس کے گھر جا کر اس کا پتہ کرتے۔مکرم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملہوی فرماتے ہیں کہ حالت فالج میں بھی جب آپ بستر پر بے حرکت پڑے ہوئے تھے۔آپ کو اپنے شاگردوں کا اس قدر خیال تھا کہ میری اور مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری کی اہلیہ بیمار تھیں۔آپ نے مستورات کو ہمارے گھروں میں بھیج کر حالات دریافت کئے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۷ را گست ۱۹۲۹ ء ص ۷ ) اپنے شاگردوں کی تعلیم کا کس قدر خیال تھا۔وہ اس سے ظاہر ہے کہ جامعہ سے بوجہ بیماری آپ نے رخصت لی۔جس کی وجہ سے لازماً طلباء کی تعلیم