حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 33
64 63 نے الفضل کے سیرت النبی نمبر کے لئے آنحضرت کا بیماروں سے سلوک، کے عنوان پر ایک نہایت مختصر اور قیمتی مضمون لکھوایا جو آپ کی زندگی کا غالباً آخری مضمون ثابت ہوا۔گویا جس آقائے نامدار کی لائی ہوئی تعلیم کو آپ عمر بھر پھیلاتے رہے اسی کے ذکر پر آپ کی عملی زندگی کا اختتام ہوا۔اور آپ کی ساری زندگی خدمت دین میں ہی گذری - آپ کی زندگی کس قدر مصروف تھی۔اس کا کسی قدر اندازہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک تقریر کے لئے مندرجہ ذیل اقتباس سے لگ سکتا ہے۔حضور فرماتے ہیں کہ : تیسرے حافظ روشن علی صاحب ہیں۔علاوہ اس کے کہ وہ مبلغین کلاس کے مدرس ہیں۔اور کام بھی کرتے ہیں۔مدارس میں ایک مدرس نہیں ہوا کرتا۔بلکہ کئی ہوتے ہیں مگر ان کے سپر د ایک جماعت کی گئی ہے۔اس کے بعد ہمارا حق نہیں کہ ان سے پوچھیں اور کیا کام کرتے ہیں۔لیکن علاوہ اس کے کہ وہ سلسلہ کے مفتی بھی ہیں۔فتوے لکھتے ہیں درس بھی دیتے ہیں جب گلا کی خرابی اور بیماری کی وجہ سے میں درس نہیں دے سکتا۔آج کل رمضان میں ایک پارہ سے زیادہ روزانہ درس دیتے ہیں۔اس کے علاوہ باہر سے جو اعتراض آئیں ان کے جواب بھی لکھ دیتے ہیں۔ان کے یہ کام بطور چندہ کے ہوتے ہیں۔“ ( احمد یہ گزٹ مورخه ۲۶ فروری ۱۹۲۳ء ص ۱۶) حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا کہ وہ دین کے لئے اس طرح کام کرتے تھے جیسے گھڑی چلتی ہے اور کبھی تھکان محسوس نہیں کرتے تھے۔رات ہو یا دن کبھی کام سے جی نہ چراتے تھے۔“ سیاحت: الفضل ۱۴رجون ۱۹۳۴ء ص ۸) آپ کو اپنی زندگی میں ہندوستان کے تمام علاقوں کے علاوہ عدن ، شام، مصر، فرانس ، انگلستان اور یورپ کے کئی اور ممالک کی سیاحت کا موقع بھی ملا۔جس کی وجہ سے آپ کا جنرل نالج بہت وسیع تھا۔آپ نے ان علاقوں کے جغرافیائی اور معاشرتی حالات کا بغور مطالعہ کیا اور اس سے کئی ایک نتائج اخذ کئے۔۱۹۲۶ء میں جب آپ بحالی صحت کے لئے کشمیر تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آثار اور باقیات کو تلاش کرنا شروع کیا۔اور دوران تحقیق مندرجہ ذیل انکشاف فرمایا :۔سرینگر سے جو سڑک بارہ مولا کی طرف جاتی ہے اس پر سرینگر سے ساڑھے سات میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے جس کا نام لادی پور ہے اور لادی بنی یعقوب میں سے ہے۔یہاں یہود نہیں رہتے۔لیکن یہ نام کچھ معنے رکھتا ہے۔یہ گاؤں معمولی نہیں۔بہت بڑا گاؤں ہے۔“ الفضل ۳ ستمبر ۱۹۲۶ ، ص ۲)