حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 19 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 19

36 35 چاہئے۔بیوی کی خبر گیری اور بچوں کی تعلیم و تربیت انسان کا فرض منصبی ہیں۔اطاعت الہی کا غلط مفہوم سمجھ کر یکسوئی کے خیال سے اب صوفیوں نے ترک دنیا کا مسئلہ ایجاد کیا ہے ان کی مثال اس گھوڑے کی ہے جو بغیر بوجھ اور گاڑی کے دوڑتا ہو۔لیکن بوجھ رکھنے اور جوا ڈالنے کے ساتھ ہی رک جاتا ہو۔اور دولتیاں جھاڑ نے لگتا ہو۔تصوف اور اسلام یہ چاہتا ہے کہ باوجود رکاوٹ اور زدوکوب کے انسان کھڑا ہونا۔چلنا اور دوڑ نا سیکھے۔تا کہ اس کے جو ہر ذاتی نکل جائیں۔ان تمام لوگوں کی خبر گیری کرنا دراصل عبادت الہی کا ایک جزو ہے۔یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام نے اس قانون پر زور دیا ہے کہ لارھبانیة فی الاسلام آپ کی اس تقریر کے متعلق حضرت مولا نا عبدالرحیم صاحب نیر جو ان دنوں انگلینڈ کے مبلغ تھے تحریر کرتے ہیں کہ : مولانا کی آمد کی خبر سن کر اور منتظمان کانفرنس کے ارادہ کو مد نظر رکھ کر میں نے حافظ صاحب مرحوم کا نام ان کے خاندانی صوفی پیر ہونے کے سبب ان کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کر کے پیش کر دیا جو سر آرنلڈ اور دوسرے مستشرقین نے پسند کیا اور دوسرے مقرر کا نام نکال کر حضرت حافظ صاحب کا نام رکھ دیا۔کانفرنس نے آپ کے مضمون۔آپ کی تلاوت قرآن اور مثنوی کے پڑھنے کو نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور مشرق کے ممتاز سبز عمامہ پوش لوگوں میں صوفی روشن علی کانفرنس والوں کی آنکھ میں خاص توجہ سے دیکھے گئے۔“ الفضل ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۲۹ ء ص ۸) ویمبلے مذہبی کا نفرنس کے صدر کے ایک تار سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کی اس تقریر کو لنڈن میں کس قدر قبولیت حاصل ہوئی۔چنانچہ وہ آپ کو ایک تار میں اطلاع دیتے ہیں : جناب صوفی حافظ روشن علی صاحب میں خوشی کے ساتھ آپ کو اس بات کی اطلاع دیتا ہوں کہ وہ لیکچر جو گذشتہ کا نفرنس مذاہب کے موقع پر پڑھے گئے۔ان کو بہت جلد ایک جلد میں چھپوانے کا انتظام میسر ز گیرلڈ ڈک ورتھ اینڈ کو آف ہنری اینتھ سٹریٹ کرمنٹ گارڈن لنڈن ڈبلیو-سی کے ساتھ کر لیا گیا ہے۔ایک جلد کی قیمت سولہ شلنگ ہوگی۔محصول ڈاک اس کے علاوہ ہو گا۔مجھے امید ہے کہ آپ ہر ممکن کوشش کر کے اپنے دوستوں میں یہ تحریک کریں گے کہ وہ براہ راست پبلشر سے اس کی کاپیاں منگوا ئیں اور ایک آپ کی ذات کے لئے بھیجی جاوے گی۔آپ کا لیکچر تھوڑے سے اختصار کے بعد چھاپ دیا جائے گا۔جس کے متعلق اس بات کی خاص طور پر خواہش کی جاتی ہے کہ کسی اور پبلشر کو اصل مسودہ نہ دیا