حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 43 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 43

84 83 دور میں کئی بارموت کے منہ سے بچے۔جلسہ سالانہ پر وہ ایسا اندھا دھند کام کرتے کہ کئی بار ان پر نمونیا کا حملہ ہوا۔ایسے شخص کی وفات پر طبعا لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اس طرز کے آدمی تھے۔ان کے بعد حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے اور تیسرے اس رنگ میں میر صاحب رنگین ( الفضل یکم اپریل ۱۹۴۴ء ص ۱) تھے۔“ ایک دفعہ حضرت حافظ صاحب کی شادی ایک ایسی عورت سے تجویز ہوئی جس کے متعلق حضور کو علم تھا کہ وہ سل و دق کی مریضہ ہے آپ نے بڑے جوش سے فرمایا۔ڈالنا چاہتا۔“ میں سلسلہ کے ایک قیمتی وجود کو خطرہ میں نہیں الفضل ۴ را کتوبر ۱۹۲۹ ، ص ۷ ) ( خلافت ثانیہ کے ) ابتدائی زمانہ میں میں سمجھتا ہوں کہ جو کام حضرت حافظ روشن علی صاحب کو کرنے کا موقعہ ملا وہ کسی اور کو نہیں ملا۔وہ صف اول کے جرنیل تھے۔انہوں نے مخالفین خلافت سے متواتر مباحثات کئے اور ان پر خلافت کی ضرورت اور اہمیت واضح کی۔( الفضل ۳۱ / جولائی ۱۹۴۹ ء ص ۵) یورپ کے سفر سے واپسی پر قادیان میں حضور کے ارشاد پر حضرت حافظ صاحب کی قیادت میں ہی احباب نے یہ دعا د ہرائی۔ائِبُونَ تَاتِمُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صِدْقِ اللَّهُ وَعْدٌ وَنَصَرِ عَبْدَهُ وَيَرُمِ الْأَحْزَابِ وَحْدَه - (الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۲۴ ء ص ۷ ) سندھ میں تحریک جدید انجمن احمدیہ کی زرعی جائیداد میں جب الگ الگ بستیاں آباد کرنے کی ضرورت پڑی تو حضور نے ان بستیوں کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اہم صحابہ کے ناموں کو زندہ رکھنے کے لئے ان کے نام پر رکھے۔ان بستیوں میں ایک بستی کا نام حضرت حافظ روشن علی صاحب کی اہمیت و عظمت کے پیش نظر آپ کے نام مبارک پر روشن نگر“ رکھا۔تا سلسلہ کی خاطر جو قربانی آپ نے پیش کی۔اس کی یاد کو تازہ رکھا جا سکے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۲ را پریل ۱۹۴۴ء) آپ کی علمی یادگاریں : آپ کی نظر کمزور تھی۔جس کی وجہ سے آپ خود کچھ نہیں لکھ سکتے تھے۔اس لئے آپ کی تصانیف بہت شاذ ہیں آپ کی سب سے بڑی علمی یادگار آپ کا ترجمہ القرآن ہے جو آپ نے نہایت سلیس اردو میں مکمل کیا ہے۔اور جماعت میں بہت مقبول ہے۔اس ترجمہ کے ساتھ قرآن کریم کے مضامین کی ایک فہرست بھی لگا دی گئی ہے۔اور فقہ احمد یہ جماعت احمدیہ کے مسلک کے مطابق فقہ کے ابتدائی اور موٹے موٹے مسائل پر یہ کتاب مشتمل ہے اور جن لوگوں کی دینی تعلیم بہت کم ہے ان کے لئے نہایت مفید کتاب ہے جو انہیں روزمرہ کی زندگی کے ساتھ واسطہ رکھنے والے مسائل سے واقفیت بہم پہنچاتی ہے۔(۳) جلسہ سالانہ ۱۹۲۸ء کے موقعہ پر آپ نے جو تقریر فرمائی اور جس کا