حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 41
80 79 سوال آیا۔آپ نے اپنی پرواہ نہیں کی۔آپ نے مصنوعی وجاہت دنیا کی ظاہر داری یا روا داری کے پردہ میں اپنی غیرت کو دبایا نہیں۔بلکہ دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔اور اسلام اور احمدیت کے رخ زیبا کو واضح کر کے معترض کے اثر کو زائل کر کے رکھ دیا۔آپ کے دشمنوں کو بھی اعتراف ہے۔کہ آپ دین کے لئے نہایت غیور واقع ہوئے تھے۔آپ کے اسی جذبہ کی وجہ سے پیغام صلح لا ہور نے آپ کو متشد د محمودی اور محمودیت کے لئے غالیانہ سپرٹ کا اظہار کرنے والا قرار دیا اور اخبار اہل حدیث نے اسے راسخ فی الاعتقاد ہونے سے تعبیر کیا۔خلیفہ اسیح الثانی سے محبت : سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بہت محبت تھی۔طالب علمی کے زمانہ میں آپ ان کے ایک ساتھی کی حیثیت سے رہے اور اس کے بعد آپ کے ہر دینی کام میں آپ کے معین و مددگار، خلافت کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہو جانے کے بعد سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں سے ایک آپ تھے۔اور اس کے بعد آپ کی تائید میں آپ نے اس قدر جوش سے حصہ لیا کہ مخالفین نے کٹر محمودی اور محمودیت کے پر چار میں غلو سے کام لینے والے کا خطاب دیا۔آپ اپنی کسی تکلیف کا احساس حضور کو نہیں ہونے دیتے تھے۔مبادا کہ آپ کو تکلیف پہنچے۔اسی طرح آپ حضور کی صحت کا خاص خیال رکھتے۔اور ہرایسی چیز سے احتیاط فرماتے جس کے نتیجہ میں حضور کی صحت پر برا اثر پڑنے کا خطرہ ہو۔سفر یورپ پر روانہ ہونے سے چند دن قبل ہی آپ کے بڑے بھائی پیر برکت علی صاحب فوت ہو گئے اگر چہ آپ کا دل غم کی وجہ سے ڈوبا ہوا تھا لیکن رنج و غم کے آثار چہرہ پر ظاہر نہ ہونے دیئے تا حضور کو یہ احساس نہ ہو کہ آپ سفر پر جانے سے ہچکچا رہے ہیں۔آپ نے حضور کے ارشاد کی اطاعت میں اپنے اس عظیم صدمہ کو بھی بھلا دیا اور پروگرام کے مطابق سفر پر روانہ ہو گئے آپ کا بلند مقام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی نظر میں : حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی نظر میں آپ کو بہت مقام حاصل تھا۔حضور سفروں میں ایک عالم کی حیثیت سے آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔اپنی بیماری کے دوران اکثر آپ کو جمعہ پڑھانے اور درس القرآن دینے کا ارشاد فرمایا۔یورپ کے سفر کے دوران آپ کی علمیت کا لحاظ رکھتے ہوئے حضور نے آپ کو ہمیشہ اپنے دائیں طرف چلنے کا ارشاد فرمایا ہوا تھا۔پیرس میں تبلیغی مہموں کے لئے سوچ بچار کرنے والی کمیٹی کا آپ کو صدر تجویز کیا۔حضور کی موجودگی میں آپ نے کئی جلسوں کی صدارت فرمائی۔اپنے پرائیویٹ کاموں میں بھی حضور آپ کا مشورہ طلب فرماتے۔اور اکثر آپ کے مشورہ پر عمل فرماتے۔حضرت ام وسیم صاحبہ کے رشتہ کے سلسلہ میں آپ کو سلسلہ جنبانی کے لئے مقرر فرمایا - (ملاحظہ ہو الفضل ۹ / جنوری ۱۹۲۶ء) 9966 آپ کی وفات پر حضور نے آپ کو قابل قدر دوست زبر دست حامی اسلام ” عبدالکریم ثانی“ اور ”معزز اور پیارے بھائی کے خطابات سے نوازا اور آپ کی خدمات کی وجہ سے دنیا کی تمام احمد یہ جماعتوں کو آپ کا جنازہ ادا کرنے کی ہدایت فرمائی۔آپ کے بھتیجہ عبد العلی صاحب کے نام