حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 27 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 27

52 51 کا ہرج ہونا تھا اس لئے آپ طلباء کو اپنے پاس بلا کر بعض کتب کے مطالعہ کا حکم دیتے۔اور ان سے دریافت فرماتے رہتے کہ کس قدر مطالعہ وہ کر چکے ہیں۔مکرم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملهوی فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم میں سے بعض طلباء کے پاس کتا بیں نہ تھیں۔آپ کو معلوم ہوا تو بہت دکھ ہوا۔اور آپ پر اس قدر ترحم اور رقت کی حالت طاری ہوئی کہ آپ اونچی آواز سے با چشم نم دعا کرنے لگے۔آپ نے اپنے منہ پر کپڑا لپیٹ لیا اور قریباً آدھ گھنٹہ نہایت عاجزی سے دعا کرتے رہے۔بیماری کے آخری دنوں میں فرمایا کرتے۔کبھی کوئی مسئلہ پوچھ لیا کرو۔مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے۔“ ایک دفعہ فرمایا : ” میں نے مولوی اللہ دتا صاحب کو بعض کتابوں کے نام لکھائے تھے اگر صحت ہوئی تو اور بھی بتاؤں گا۔تم ان کو نوٹ کر لو اور ان کا مطالعہ کر وا بھی تمہیں بہت کچھ کرنا ہے۔“ ( الفضل ۶ راگست ۱۹۲۹ء ص ۷ ) وفات پر آپ کے شاگردوں کے تاثرات : آپ کے شاگرد آپ کو صرف معلم ہی نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ آپ کی بے پایاں شفقت اور کمال ہمدردی کی وجہ سے آپ کو اپنا باپ تصور کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات پر آپ کے شاگردوں نے ایک عظیم الشان نقصان کا احساس کیا۔جس کی تلافی ہونا ناممکن ہے اور انہوں نے صدمہ کا اظہار اس رنگ میں کیا جس کی مثال نہیں پائی جاتی اور انہوں نے اجتماعی رنگ میں آپ کے متعلق قرار داد تعزیت پاس کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور جو لوگ اس وقت قادیان میں موجود نہ تھے۔انہوں نے علیحدگی میں اپنے آنسو بہائے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس نے بلا دعر بیہ سے اپنے جذبات کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا: ایسے شفیق اور مہربان استاد کا جدا ہونا کوئی معمولی حادثہ نہیں اے ہمارے محبوب اور بزرگ استاد تو ہمیں اپنی زندگی میں بھی محبوب تھا۔اور بعد الموت بھی محبوب ہے۔کون ہے جو تجھے مردہ کہہ سکے تو شہید ملت ہے تو زندہ ہے جب تک کہ یہ سلسلہ دنیا میں قائم ہے۔اور جب تک کہ تیرے شاگر د زندہ ہیں۔اور وہ اس کام کو جس کے لئے تو نے اپنی زندگی کو وقف کر دیا تھا جاری رکھیں گے۔الوداع اے عندلیب گلشن احمد الوداع - جا اور مالک گلشن کی بزم میں خوش خوش جنت میں جا۔ہاں ملیک مقتدر کے قرب میں جا اور مقعد صدق پر جلوہ افروز ہو۔قابل رشک تھی تیری زندگی اور قابل رشک ہے تیری موت۔“ الفضل ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۲)