حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 20 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 20

38 37 جاوے۔کیونکہ میسرز ڈک ورتھ نے کمال مہربانی سے اس کام کے کرنے کا پورا ذمہ اٹھا لیا ہے۔ہمیں مختلف اطراف سے خبریں پہنچ رہی ہیں کہ کانفرنس کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔میں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر آپ کے اس کام میں حصہ لینے کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ کا نہایت وفاشعار ،صدر منتظم کمیٹی۔“ 66 الفضل ۲ مئی ۱۹۲۵، ص ۲) ہندوستان کے متعدد مشہور مقامت مثلاً بنگلور اور آگرہ وغیرہ میں آپ نے تصوف پر شاندار تقاریر فرمائی ہیں۔ان تقاریر میں آپ نے صحیح اسلامی تصوف کو پیش کر کے دنیا کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس وقت صحیح اسلامی تصوف کا نمونہ اگر پایا جاتا ہے تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں پایا جاتا ہے۔۔قرآن مجید سے گہرا تعلق : - قرآن کریم کے ایک بہت بڑے عالم تھے۔اور سلسلہ عالیہ احمد یہ میں انہیں تفسیر قرآن میں ایک بلند مقام حاصل تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی آپ کو اس فن میں کامل ہونے کا سرٹیفکیٹ عطا فرمایا۔قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا آپ کا خاص اور پسندیدہ شغل تھا۔بیسیوں دفعہ آپ نے قرآن کریم کا مکمل درس دیا۔رمضان کے مہینہ میں آپ ظہر سے عصر تک با قاعدہ درس دیا کرتے۔اور آپ کا یہ طریق ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۷ء تک جاری رہا۔اس کے علاوہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ناسازی طبع کے دوران آپ کو اپنی جگہ درس قرآن کے لئے مقرر فرمایا آپ اس درس و تدریس کے کام سے کبھی اکتاتے نہیں تھے۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ظہر اور عصر کے درمیان مسجد اقصیٰ میں قرآن کریم کا درس دیا۔عشاء کے بعد وہاں بخاری شریف کا درس دیا۔اور نماز فجر کے بعد مہمان خانہ میں قرآن شریف کی روحانی غذا بندگان خدا کو پہنچائی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم سے شدید محبت اور عشق تھا۔قرآن کریم آپ کی غذا تھی۔قرآن کریم ہی آپ کی جان تھی۔بعینہ وہی تعلق قرآن کریم سے حضرت حافظ صاحب کو تھا۔آپ کی مجلس میں بھی ہمیشہ قرآن کریم کا ذکر رہتا اور آپ اس کا درس معمولاً بڑے شوق سے دیا کرتے۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل آپ کے درس قرآن کریم کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ : حافظ روشن علی صاحب مکرم جس جواں ہمتی و پیرانه فرزانگی و وسعت معلومات کے ساتھ رمضان المبارک میں ایک پارہ روزانہ درس بین الظهر والعصر دیتے رہے۔وہ انہی کا حصہ تھا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔آپ پہلے تمام پارے کی تلاوت فرماتے۔پھر ترجمہ اردو سناتے مگر اس حسن ترتیب و احتیاط کے ساتھ کہ مجال کیا ہے جو کوئی آیت آگے پیچھے ہو جائے یا کوئی لفظ تو در کنار حرف بھی چھوٹ جائے۔یہ مسلسل ترجمہ بغیر آیت ساتھ ساتھ