حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 2
2 1 پیش لفظ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ وہ جب دنیا میں اپنے گمراہ بندوں کی رشد و ہدایت کے لئے اپنے برگزیدہ انبیاء اور ماموروں کو مبعوث کرتا ہے تو وہ انہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑتا۔وہ نہ صرف خودا نہیں اپنی مدد اور نصرت سے نوازتا ہے بلکہ ایسی نیک جماعت بھی عطا فرماتا ہے جس کے افراد ان کے اعضاء اور جوارح بن کر اس کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا موجب ہوتے ہیں۔اسی سنت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِيَ إِلَيْهِمُ مِنْ السَّمَاءِ کا وعدہ دیا اور عملی طور پر ایسے صحابہ عطا فرمائے جنہوں نے آپ کے پیغام کی اشاعت میں اپنا تن من دھن سب کچھ لگا دیا اور دنیوی حرص و آ ز کو چھوڑ کر دین کے ہی ہور ہے۔خدا تعالیٰ ان کی مالی اور جانی قربانیوں اور نیکی اور تقوی کو دیکھ کر عرش پر خوش ہوا اور اپنے پاک کلام میں اصحاب الصُّفَةِ وَمَا أَدْراكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ کے الفاظ میں ان کی تعریف کی اور رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کے قابل فخر سرٹیفکیٹ سے انہیں نوازا۔یہ وہ جماعت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس دور میں اسلام کے احیاء کا کام لیا اور وہ اپنے اعمال افعال اخلاق عادات اطوار اور خدمت دین کے جوش اور جذبہ کی بناء پر اسلام کے دور اول کے صحابہ مثیل قرار پائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خودفرماتے ہیں: صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ اور فَمِهدَاهُمُ اقْتَدِة کے ماتحت ہم بعد میں آنے والوں پر ان کے پاک نمونہ کو اختیار کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔اس پاک گروہ کے اکثر افراد اپنے مفوضہ کام کو سرانجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اور ان میں سے ایک نہایت مختصر گروہ ہم میں موجود ہے جو اپنی عمروں کا اکثر حصہ گذار کر منهم من ينظر کے ماتحت اللہ تعالیٰ سے ملاقی ہونے کے منتظر ہیں۔لہذا نو جوانان احمدیت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس برگزیدہ گروہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں کہ یہ نعمت بعد میں ان کے ہاتھ نہیں آئے گی۔ہم نے اگر نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنا ہے تو ہمیں اس برگزیدہ گروہ کی اتباع کرنا ہوگی اور ان کو ادب و احترام کی نظر سے دیکھنا ہو گا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس جن لوگوں نے۔۔۔حضرت اقدس کو قبول کیا اور حضور کی صحبت میں رہے وہ بعد میں آنے والوں کے لئے استاد اور نمونہ کے طور پر ہیں۔اگر لوگ ان کی اتباع میں کریں گے تو یہ خدا کا حکم ہے اور اگر ان کی حقارت کریں گے تو تقویٰ کے درجات میں ترقی نہیں کر سکیں گے۔( الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۱۹ء ) ایسے ہی پاک وجودوں میں سے ایک حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ تھے جس کے حالات زندگی اس کتابچہ میں خاکسار نے مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔