حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 16 of 18

حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 16

28 27 ہوئے بھی اپنی تن آسانی کے لئے یہ خرچ ان کو گوارا نہ ہوا۔پیدل دفتر تشریف لے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو جسے حضور نے اپنے درخت وجود جاتے اور بس پر واپسی ہوتی۔انہیں دنوں میں آپ نے لاکھوں روپے کے خرچہ سے کی سرسبز شاخیں قرار دیا ہے ہمیشہ کثرت سے حضرت چوہدری صاحب جیسے نفع رساں لندن مشن ہاؤس کی موجودہ عمارت بنوانے کا اعزاز حاصل کیا اور لاکھوں روپے کے وجود عطا فرماتا چلا جائے۔اور ہم سب کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ حضرت چوہدری صاحب کی زندگی سے سبق سیکھتے ہوئے ان کی نیکیوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔نامور احمدی ادیب اور شاعر جناب ثاقب زیروی صاحب نے حضرت چوہدری محیر العقول داستا نہیں معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت اور امر واقعہ ہے جس کے بے صاحب کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار ایک نظم کی صورت میں کیا جس میں حضرت شمار لوگ معینی شاہد ہیں۔سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا مگر چوہدری صاحب کے سیرت اور اوصاف کا بڑے خوبصورت الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔وظائف بیوگان اور قیموں کی امداد کے طور پر دینے کی سعادت حاصل کی۔۔۔۔آپکی کفایت شعاری اور انفاق فی سبیل اللہ کے واقعات تو پرانے زمانے کی اطمینان وسکون اور رضائے الہی کی لازوال دولت اسے میسر تھی۔ہزاروں گھروں میں اس کے دم سے چراغ جلتے تھے۔ان کی دعائیں ہی اس بے نفس وجود کا سرمایہ اور جائیداد تھی۔تو جہاں تک مجھے علم ہے اس سخنی کی وفات کے وقت اس کی کوئی ظاہری جائیداد نہ تھی۔“ ، (ماہنامہ خالد حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نمبر دسمبر ۱۹۸۵ء جنوری ۱۹۸۶ صفحه ۱۲۹ ۱۳۰) وفات کے بعد حضرت چوہدری صاحب کو سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے خاص ارشاد کے ماتحت بہشتی مقبرو ربوہ کے قطعہ خاص میں سپر د خاک کیا گیا۔حضور نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں آپ کو خاص طور پر شاندار خدمات دین پر بہترین خراج تحسین پیش فرمایا۔اللہ تعالیٰ حضرت چوہدری صاحب کی روح پر اپنی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا چلا جائے اور ان کی نیکیوں کو ان کی آئندہ نسلوں میں ہمیشہ جاری رکھے اور کیا شخص تھا کہ بانٹنے آیا تھا رنگ و نور سے مٹا گیا تاریکیوں کا نام جہاں سے گفتار میں تھا کھلتی بہاروں کا بانکپن رفتار ނ ہواؤں کو چلنا سکھا گیا دین خدا کی آبرو تھی مقصدِ حیات جہاں بھی پیار کا دریا بہا گیا