حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 15 of 18

حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 15

26 25 راہیں ہیں اس لئے آپ۔۔۔اولا و در اولاد کو یہ بتاتے چلے جائیں کہ حضرت مسیح موعود توفیق پارہے ہیں۔مکرمہ محترمہ امتہ الھی بیگم صاحبہ نے نومبر ۲۰۰۴ء میں وفات پائی علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک نہیں، دو نہیں بکثرت ایسے غلام عطا اور اللہ تعالی کے فضل سے بہشتی مقبرور بوہ میں دفن ہوئیں۔فرمائے گا۔۔۔۔جو عالمی شہرت حاصل کریں گے جو بڑے بڑے عالموں اور فلسفیوں حضرت چوہدری صاحب کو اللہ تعالی نے بے پناہ مال سے نوازا لیکن آپ جیسا کے منہ بند کر دیں گے اور قو میں ان سے برکت پائیں گی۔ایک قوم یا دو قو میں ہی نہیں سراپا قربانی وجودصدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔کئی اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود کل عالم کی قومیں ان سے برکت پائیں گی۔خدا کرے کہ بکثرت اور بار بار ہم ایسا نا در روزگاریخی تو کم ہی دیکھنے میں ملتا ہے جس نے اپنی ذات کو ہمیشہ نظر انداز کر حضرت (بانی سلسلہ احمدیہ ) کی اس پیشگوئی کو پورا ہوتا دیکھیں۔دوسروں میں ہی نہیں کے خدا اور اس کے رسول کے دین کی اشاعت کے لئے ہمیشہ اپنے آپ کو کمر بستہ اپنوں میں بھی۔غیروں کے گھروں میں نہیں اپنے گھروں میں بھی ہم اللہ تعالی کے رکھا۔اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے قدموں پر قربان کر دیا۔فضل کے ساتھ اس عظیم پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے دیکھیں۔(آمین) بقول آپ کے بھتیجے مکرم چوہدری ادریس نصر اللہ خان صاحب ”حضرت باباجی سید نا حضرت مصلح موعود نے بھی کئی مرتبہ آپ کو کلمات خوشنودی سے نوازا۔ایک انتہائی درجہ کے سخی تھے لاکھوں اور کروڑوں روپے کمائے لیکن اپنی ذات کے لئے محض مرتبہ تو یہاں تک فرمایا کہ " عزیزم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ساری عمر دین ضروریات کی حد تک رکھ کر باقی سب کچھ ضرورتمندوں کی بھلائی اور خدمت میں صرف کرتے رہے۔آخر کار معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اپنی ضروریات کے لئے ۶۰ یا ۷۰ کی خدمت میں لگائی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔“ اولاد پونڈ رکھتے تھے۔اس کے علاوہ باقی آمدنی کو داہنی طور پر اپنی آمدنی کا حصہ ہی تصور نہیں (بحوالہ ماہنامہ خالد حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نمبر دسمبر ۱۹۸۵ء جنوری ۱۹۸۶ صفحه ۱۰۹) کیا کرتے تھے۔سامان تعیش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔آسائشوں کے معاملہ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔موٹر کار جیسی چیز جسے آجکل کی ضروریات میں حضرت چوہدری صاحب کی واحد اولاد آپ کی صاحبزادی مکرمہ محترمہ امتہ الحی شمار کیا جاتا ہے اپنے لیے ضروری نہ سمجھتے تھے اور لمبا عرصہ یورپ میں بغیر گاڑی کے بیگم صاحبہ تھیں جن کی شادی حضرت چوہدری صاحب کے بھیجے چوہدری حمید نصر اللہ گزارا کرتے رہے۔۱۹۶۳ ء سے لے کر اپنی وفات تک آپ نے بھی کا رنہیں رکھی۔خاں صاحب ابن حضرت چوہدری عبداللہ خاں صاحب سے ہوئی جو ایک لمبے عرصہ آپ کا قیام ۱۹۶۳ء سے ۱۹۷۴ ء تک بطور حج عالمی عدالت انصاف ہالینڈ میں اور سے امیر جماعت احمدیہ ضلع لاہور کے علاوہ بطور صدر فضل عمر فاؤنڈیشن بھی خدمات کی فروری ۱۹۷۴ ء سے لیکر نومبر ۱۹۸۳ء تک انگلستان میں رہا گویا یورپ میں رہتے