سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 26
48 47 ایک دعا کاغذ پر لکھ کر دی اور فرمایا۔”میں بھی دعا کروں گی، آپ بھی یہ دعا پڑھتے جائیں اور دوبارہ گھوڑے کو تلاش کریں۔انشاء اللہ مل جائے گا۔“ میاں اللہ رکھا دعا پڑھتے ہوئے ساتھ ہی کا غذ کی سیاہی خشک کرنے کے لیے پھونکیں مارتے ہوئے لنگر خانہ سے تھوڑی دور گئے تھے کہ دیکھا گھوڑا دوڑتا ہوا سامنے آ رہا ہے اور اس طرح حضرت اماں جان کی دعا سے گھوڑا مل گیا۔پیارے بچو! یہ سارے واقعات پڑھ کر اور جو کچھ بھی ہمیں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اماں جان کے متعلق بتایا ان تمام باتوں کو دیکھ کر ہم حضرت اماں جان کی سیرت کے بارے میں بلا تامل یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ بہت صدقہ و خیرات کرنے والی۔ہر چندہ میں شریک ہونے والی تھیں۔پانچوں وقت کی نماز پہلے وقت میں ادا کرتیں۔بلکہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتیں۔دل میں ہر وقت خدا کا خوف رہتا۔آپ جہاں ایک خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں وہاں اولاد کے لیے ایسی ماں تھیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔گھر داری اور دوسرے انتظام بھی بڑے اعلی طریق پر کرتیں۔بہت محنتی تھیں۔صبر اور شکر سے کام لیتیں۔بہت کھلے دل کی مالک تھیں۔بہت بڑا دل تھا ان کا۔کوئی کچھ بھی کہہ دے، کوئی تکلیف پہنچائے، کبھی بھی شکایت نہ کرتیں بلکہ ظاہر بھی نہ ہونے دیتیں۔تکلیف دینے والا خود ہی خاموش اور شرمندہ ہو جاتا۔شکوہ ، چغلی، غیبت نہ آپ کر تیں نہ سننا پسند کرتیں۔دل میں کسی کے خلاف کوئی کینہ نہ تھا، محبت ہی محبت تھی۔خدا کی محبت ، اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ، اُس کی کتاب سے محبت اور اُس کے بندوں کی محبت سے آپ کا دل بھرا رہتا۔ہر ایک کے کام آنا، دکھ درد بانٹنا، ہر ایک خوشی میں دل سے شامل ہونا آپ کی فطرت تھی۔خوش مزاج بھی تھیں اور شاعرہ بھی۔ادب اور علم سے لگاؤ بھی تھا اور قدر بھی۔بہت صفائی پسند تھیں۔صاف ستھرالباس پہنتیں۔خوشبو آپ کو بہت پسند تھی۔حضور بھی آپ کے لیے عطر اور چنبیلی کا تیل خاص طور پر منگوایا کرتے۔لباس کے ساتھ اپنا گھر بھی صاف ستھرا رکھتیں۔آپ کا کمرہ ہر وقت اگر یتی اور ہرمل اور لوبان کی دھونی کی خوشبو سے مہکا رہتا۔کھانے میں بھی سوکھی میتھی ڈالتیں تا کہ خوشبو آئے۔آپ کے ننھیال کی طرف سے رشتہ کے ایک بھائی تھے جو غیر احمدی تھے، وہ ایک دفعہ سردیوں میں قادیان آئے۔یوں تو قادیان اور قادیان والوں سے بہت متاثر ہوئے لیکن اپنی آپا نصرت جہاں بیگم نے آپ پر خاص اثر چھوڑا۔وہ کہتے ہیں:۔آپا صاحبہ کا یہ طریقہ تھا کہ وہ صبح صبح میرے پاس پہنچ جاتیں اور دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آجاتیں، السلام علیکم کہہ کر باتیں شروع کر دیتیں۔میں لحاف لیٹے پلنگ پر بیٹھا ہوتا اور وہ ٹہل ٹہل کر باتیں کرتی جاتیں۔آواز میں کرارہ پن باقی تھا۔نظر کام کرتی ہے۔ہاتھ پاؤں مضبوط ، صحت اچھی ہے اور بڑی چست ہیں۔بات کو غور سے سنتی ہیں اور ہر بات کا معقول جواب دیتی ہیں۔زندگی کے ہر موضوع پر باتیں کرتی ہیں اور بے دھڑک اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔پان کا زیادہ شوق ہے۔باتیں کرتی جاتی ہیں اور پان کھاتی جاتی ہیں۔دتی والوں کا سا لباس ہے۔کرتا اور تنگ پائجامہ، کرتا پر سویٹر پہن کر کشمیری شال اس طرح اوڑھتی ہیں کہ سر بھی ڈھک جاتا اور مفلر بھی معلوم ہوتا اور کوٹ پہن کر ان سب کو ایک جگہ کر لیتی ہیں۔ایک ہاتھ میں تسبیح اور ایک میں دستانہ ہوتا ہے۔صبح ہی نماز کے بعد گھر سے نکلتی ہیں۔پہلے عزیزوں کے اور پھر دوستوں کے اور جماعت کے دوسرے مخلص احباب کے گھر جاتی ہیں۔