سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 25 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 25

46 45 میں بھی بچوں والی ہوں۔میں آج کل بندوق ہر گز نہیں دوں گی۔درگزر کرنا معاف کر دینا آپ کی فطرت کا حصہ تھا۔چھوٹی بات ہو یا بڑی اور کسی بات سے کیسی اسے اتنی دور کہاں لے گئے تھے؟ میں نے تو باہر صحن میں لے جانے کو کہا تھا۔“ گھر میں کسی ملازمہ سے کوئی نقصان ہو جا تا یا کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو اِنَّا لِلہ پڑھ کر خاموش ہو جاتیں۔ڈانٹنے کے بجائے درگزر سے کام لینے کو ہی بہتر جانتیں۔چغلی اور غیبت سے نفرت ہی تکلیف یا نقصان پہنچا ہو آپ درگزر کر دیتیں۔ارشد قریشی صاحب ایک دلچسپ واقعہ سُناتے ہیں:- میں جب چھوٹا سا تھا حضرت اماں جان کے گھر آیا جایا کرتا تھا۔ایک بار گیا تو دیکھا آپ گود میں اپنے پوتے (حضرت) میاں ناصر احمد کو لیے بیٹھی ہیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا: ”لڑکے کو ذرا باہر لے جاؤ۔باہر سے ان کا مطلب شاید گھر کا صحن تھا۔میں سمجھا گھر سے باہر لے جانے کو کہہ رہی ہیں کہ سیر کرالاؤں۔میں ننھے معصوم کو گود میں اُٹھا کر خوش خوش باغ میں جا پہنچا۔ٹھنڈی ہوا میں کھلا کر جب واپس ہوا تو دیکھا پیر افتخار احمد صاحب ہانپتے کانپتے بھاگے چلے آرہے ہیں۔مجھے دیکھ کر انہیں تسلی ہوئی اور بولے ” تم بچے کو کہاں لیے پھرتے ہو۔جلدی لاؤ سب جگہ تلاش ہورہی ہے۔“ یہ سن کر میں جلدی جلدی ان کے ساتھ ہولیا۔کیونکہ گھر میں بچے کو نہ دیکھ کر میری تلاش شروع ہو گئی تھی کہ یہ کدھر غائب ہو گیا۔کئی عورتیں مرد میری تلاش میں ادھر ادھر دوڑا دیئے گئے تھے۔میں ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا۔دل خوف سے کانپ رہا تھا کہ جانے اب میرے ساتھ کیا ہو، لیکن حضرت اماں جان پر نظر پڑتے ہی خوف دور ہو گیا اور دل میں اطمینان اور خوشی پیدا ہوئی۔بجائے اظہارِ ناراضگی کرنے یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑیں اور بولیں آپ کو چغلی، غیبت یا کسی کی غیر حاضری میں شکایت کرنا بہت ہی برا لگتا تھا۔اس بات کو بہت نا پسند کرتی تھیں۔ایک عورت تھی جس میں یہ کمزوری تھی۔اس کو آپ نے سمجھایا کہ یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔اللہ میاں منع کرتا ہے۔اس عورت نے سن کر فوراً کہا کہ آپ کو فلاں عورت نے بتایا ہوگا کہ میں ایسا کرتی ہوں۔اماں جان اس بات پر بہت خفا ہوئیں اور کہا " تم بے وجہ بدظنی سے کام لے رہی ہو۔“ قبولیت دعا بچو! جیسا کہ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت اماں جان کو دعاؤں پر بہت یقین تھا۔آپ ہر وقت ہر بات کے لیے دعا کرتیں اور اللہ تعالیٰ آپ کی سنتا بھی بہت تھا۔اس بارے میں ہم آپ کو ایک واقعہ سناتے ہیں۔ماڑی بچیاں گاؤں میں ایک احمدی میاں اللہ رکھاڈ کا ندار تھے۔وہ گاؤں سے غلہ خرید کر آس پاس یعنی اردگرد کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے۔ایک دن وہ قادیان گئے تو ان کا گھوڑا خود بخود کھل کر بھاگ گیا یا اللہ جانے کوئی چور کھول کر لے گیا۔وہ بے چارے بہت پریشان ہوئے۔قادیان اور اس کے قریب جتنے گاؤں تھے سب جگہ تلاش کیا، مگر گھوڑا نہ ملا۔مایوس ہو کر حضرت اماں جان کے پاس آئے اور دعا کی درخواست کی۔آپ نے