سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 24
44 43 یہ دونوں شعر تو ٹوٹے پھوٹے تھے۔بس جو وہ لکھ سکے لکھ کر بھیج دیا، لیکن حضرت اماں جان نے اسی وقت اسی کاغذ کے پیچھے یہ شعر لکھ کر بھیج دیے ہمیں تو ہے یہی بڑھیا غنیمت جو روٹی کو پکا دیتی ہے بروقت جسے بڑھیا کے ہاتھوں کی نہ بھاوے تو لا وے اس کو جو اچھی پکاوے ثواب حاصل کرنے کا شوق چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جس کے کرنے سے ثواب ملتا ہو، آپ ضرور کرتیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان بیت الدعا میں نماز پڑھ رہی تھیں۔پاس ہی ایک خاتون بیٹھی انہیں پنکھا جھل رہی تھیں جب حضرت اماں جان نماز پڑھ چکیں تو انہوں نے بھی وہیں نماز شروع کر دی۔حضرت اماں جان نے پنکھا ہاتھ میں لے کر ان کو جھلنا شروع کر دیا۔ان بے چاری رہتا۔ایک بار ایک بھینس کو دو تین دن گتاوانہ ملا تو آپ نے خود جا کر اسے گتاوا ڈال دیا۔آپ حساب میں بہت صاف تھیں۔یعنی جب بھی کوئی چیز وغیرہ منگوا تیں اسی وقت اس کی رقم ادا کر دیتیں۔ایک بار حضرت اماں جان نے بابو عبدالحمید صاحب سے کوئی چیز لا ہور سے منگوائی۔انہوں نے وہ چیز لا دی لیکن اماں جان کو اس کی قیمت نہ بتائی۔اتفاق سے حضرت اماں جان کو بھی قیمت پوچھنی یا دنہ رہی۔ورنہ عام طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کوئی چیز لے جا کر دی اسی وقت روپے دے دیے۔بعد میں آپ کو یاد آیا تو آپ نے اُسی وقت بابو صاحب کو بلا بھیجا اور فرمایا: ” اس چیز کی کیا قیمت ہے؟ بتادی ہوتی تو میں آپ کو بلوانے کی بجائے پیسے ہی بھیج دیتی۔بابو صاحب نے کہا کہ ” یہ تو میری طرف سے تحفہ ہے۔میں نے جان کر قیمت نہیں بتائی۔“ اماں جان نے فرمایا: دو نہیں جو میں چیز کہہ کر منگواؤں اس کی قیمت ضرور لینی پڑے گی۔اور آپ نے زور دے کر قیمت ادا کر دی۔نے گھبرا کر جلدی سے نماز ختم کر دی یہ سوچ کر کہ کہیں بے ادبی نہ ہو، توبہ توبہ کرنے لگیں۔جانوروں پر شفقت حضرت اماں جان نے یہ سن کر فرمایا:- کیا میں ثواب حاصل نہ کروں۔“ حسن انتظام اور لین دین حضرت اماں جان کی زمینیں شیخ نور احمد صاحب سنبھالا کرتے تھے لیکن آپ خود ان کی نگرانی کرتی تھیں۔ان کو بلا کر پوچھتی رہتیں۔مثلا فلاں کھیت میں مکئی کیوں بوئی گئی۔اسے گندم اُگانے کے لیے چھوڑنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔جو مویشی پالے ہوتے تھے ان کا خیال 66 حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کو بچپن سے ہی شکار کا بہت شوق تھا۔حکیم عبدالعزیز خان بھی یہی شوق رکھتے اور اکثر ان کو اپنے ساتھ شکار پر لے جایا کرتے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے مئی کا مہینہ تھا۔حکیم صاحب نے حضرت میاں شریف احمد صاحب سے کہا۔”میاں بندوق لا ؤ شکار پر چلیں۔“ میاں صاحب خوش خوش بندوق لینے چلے گئے۔واپس آ کر بولے ”اماں جان بندوق نہیں دیتیں۔“ اس پر خان صاحب نے خود کہلا بھیجا کہ کچھ دیر کے لیے بندوق دے دیں۔آپ نے جواب میں فرمایا۔”آج کل پرندے انڈوں پر ہوتے ہیں۔66