سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 23
42 41 یہ ہے کہ دین حق نے اس چیز کو منع کیا ہے جو ہندو بُت بنا کر بڑی عزت سے گھروں میں رکھتے ہیں۔ان کو خدا کی صفات دے کر عبادت کرتے ہیں اس لیے اللہ نے اس شرک کو روکنے کے لیے بُت بنانے سے منع فرمایا۔عرب کے لوگ بھی جہالت کے زمانہ میں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔اس لیے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو دُور کرنے کے لیے بتوں کے بنانے یا ر کھنے سے منع فرمایا لیکن اس قسم کے کھلونوں کو نہیں روکا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گڑیا سے کھیلا کرتی تھیں۔اس قسم کی کسی بھی چیز کو اللہ کی صفت دیکر عبادت کی غرض سے گھر میں رکھنا بے حد گناہ اور شرک ہے۔“ وہی خاتون کہتی ہیں کہ پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے احباب کی تصویریں دیکھ کر اعتراض کیا۔اس پر حضرت اماں جان نے جواب دیا۔حضرت صاحب کی تصویر عبادت یا پرستش کے لیے نہیں بلکہ یہ تو اس لیے ہے کہ جولوگ ڈور کے ملکوں میں رہتے ہیں وہ اس طرح اپنے امام کا چہرہ دیکھ لیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہے اور انگریز اور دوسرے مغربی ملکوں کے لوگ تصویر کو دیکھ کر انسان کے اخلاق وغیرہ کا اندازہ کر لیتے ہیں۔یہ تصویر تو خود دعوت الی اللہ کا ذریعہ ہے۔اگر صرف تصویر رکھنا منع ہوتا تو تم جو جیب میں روپیہ رکھتی ہو، بچوں کی کتابوں میں تصویریں ہوتی ہیں، پھر تو یہ سب منع ہوتا۔میں نے کہا اس بات سے تصویر کا مسئلہ بھی سمجھ آ گیا۔تیسرا واقعہ انہوں نے یہ سنایا کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ بعض بیبیوں نے اپنے بالوں میں پراندے ڈال کر چوٹیوں کا بڑھایا ہوا تھا۔میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: - یہ تو ریشم کے پراندے ہیں ( اصلی ) بالوں کے نہیں ان کا ڈالنا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ظالم لوگ عورتوں پر بڑے بڑے ظلم کرتے تھے۔ان کے بال زبر دستی کاٹ کر بیچتے تھے اس لیے آپ نے منع فرمایا کہ عورتوں کے بالوں میں بال نہ ڈالے جائیں۔ادبی ذوق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی اُردو لفظ کے خاص استعمال کے بارہ میں پوچھنا ہوتا تو سب سے پہلے حضرت اماں جان سے پوچھتے۔اگر کوئی شبہ رہ جاتا تو پھر نانا جان یا نانی جان سے پوچھتے۔اماں جان کبھی کبھی شعر بھی کہہ لیا کرتیں۔ایک بار حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ جب مالیر کوٹلہ میں تھیں تو ان کو عید کے موقع پر یہ شعر لکھ بھیجے۔تم تو اپنے گھر میں بیٹھی محترم و دلشاد ہو ہر طرح کے فکر و غم سے دُور ہو، آزاد ہو دیکھ کر بچوں کو اپنے گرد ہنستے کھیلتے فضل مولیٰ ނ مناقی عید کیا اعیاد * ہو حال کیا اُس کا بتاؤں جس کی بچی ہے جدا تم بھلا بیٹھی ہو اس کو پر اُسے تم یاد ہو ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین صاحب کے طالب علموں میں سے ایک نے جن کا نام مولوی نظام الدین تھا ایک کاغذ پر روٹی کی شکایت لکھ کر بھیجی جواندر سے پک کر آئی تھی۔اگر روٹی یہی بڑھیا پکاوے کرو رخصت کہ پھر سب گھر کو جاوے والا عرض کرنا ہے عید کی جمع ضروری کہ ہو روٹی مصفا اور تنوری