سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 22
40 39 کسی مہمان کو کسی خاص چیز کی ضرورت ہو تو بتا دے۔چوہدری صاحب نے بے تکلفی سے کہہ دیا کہ ”مجھے کسی کی عادت ہے۔تھوڑی دیر بعد دہی کی میٹھی لسی آگئی جو بعض دوسرے دوستوں نے بھی پی اور بعض نے چائے اور پان وغیرہ بھی منگوائے۔خوش مزاجی حضرت اماں جان بے حد خوش مزاج تھیں، ہلکی پھلکی تفریح کو پسند فرماتیں۔پیدل جاتیں اور ساتھ دُعا مانگتیں۔یا اللہ! ساری دُنیا کے کھانوں کا مزا میرے حضرت صاحب کے کھانے میں آ جائے۔حضرت اماں جان نے ایک دن ہنس کر کہا ” کیوں اصغری کی اماں کیا میرے بھائی کے کھانے کا بھی۔( یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جو اُس وقت لاہور میں پڑھتے تھے۔) اصغری کی اماں جھٹ سے بولیں ”ہاں اللہ میاں ! بس میاں اسمعیل کے کھانے کا مزا نہ آئے۔“ سیر کو جانا آپ کو بے حد پسند تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی آپ کے علم کی قدر اور ادبی ذوق ساتھ پیدل سیر کو جایا کرتیں۔بعد میں بھی ایسا ہی کرتی رہیں۔پکنک بھی کیا کرتیں ،ایک دفعہ آپ نے اپنے باغ میں آلو لگوائے اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور دوسری لڑکیوں اور بہوؤں کو لے کر باغ میں سیر کے لیے تشریف لے گئیں۔دوٹو کرے آلو ابلوا کر اچار رکھا اور اپنے باغ کے لوکاٹ اتروائے۔چٹنی تیار کی، زمین پر دریاں بچھا کر سب نے یہ دعوت کھائی،لڑکیوں نے پینگ جھولی اور کھیلتی رہیں، خوب تفریح کی۔آپ کو علم کی بہت قدرتھی اِس لیے تعلیم دینے والے کا خیال بھی بے حد رکھتیں۔محترمہ اُستانی سیکینہ صاحبہ نے بتایا ” جب صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ پانچ چھ سال کی ہوئیں تو حضرت اماں جان نے مجھے ان کو پڑھانے پر مقرر کیا۔میں نے ان کو اردو لکھنا پڑھنا سکھانا شروع کیا۔اس عرصہ میں اماں جان نے مجھ پر اتنی مہربانیاں کیں اور میری زندگی کی ہر ضرورت کو پورا کیا کہ میری ساری فکریں جاتی رہیں اور جب محترمہ صاحبزادی ایک بار سیر کرتی ہوئی عرفانی صاحب کے گھر تشریف لے گئیں۔ان کا گھر ڈھاب صاحبہ کی شادی ہوئی تو آپ نے قریب ہی زمین بھی دی کہ اس پر مکان بناؤ۔کے کنارے پر تھا۔حضرت اماں جان نے وہاں بچے اکٹھے کر کے کہا۔لڑکو! مجھے تیر کے دکھاؤ۔ڈھاب کے کنارے ایک درخت کے نیچے اپنی چارپائی بچھوائی اور وہاں بیٹھ کر بچوں کی تیرا کی دیکھتی رہیں۔ان کے ساتھ حضرت اُمّم ناصر اور دوسری لڑکیاں بھی تھیں۔کھانا بھی سب نے وہیں ڈھاب پر کھایا۔آپ کی طبیعت میں مزاح بھی تھا۔حضرت اماں جان کے پاس ایک عورت جنہیں سب اصغری کی اماں کہتے تھے کھانا پکایا کرتی تھیں۔ان کی عادت تھی ہنڈیا میں چیچہ بلاقی حضرت اماں جان علم کی قدر بھی کرتیں اور خدا تعالیٰ نے انہیں علم عطا بھی کیا تھا۔جب بھی کوئی کسی قسم کا اعتراض کرتا آپ ( دین ) کی تعلیم سے دلیل دے کر اس کا جواب دیتیں۔بیگم سیٹھ عبداللہ بھائی نے بتایا کہ:- ایک مرتبہ ہم چند بہنیں حضرت اماں جان کے پاس بیٹھی تھیں۔میں نے کپڑے کی چند گڑیاں دیکھیں جو بچوں کے کھیلنے کے لیے رکھی ہوئی تھیں میں نے عرض کیا۔گڑ یاں کیوں رکھی ہیں دین نے تو منع فرمایا ہے۔آپ نے بغیر بُر اما نے جواب دیا ”اصل بات